اسرائیلی وزیراعظم ہماری سیاست سے دور رہیں، سابق آسٹریلوی وزیرِاعظم

کینبرا۔17دسمبر (اے پی پی):آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرن بل نے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کو تنبیہ کی ہے کہ وہ آسٹریلیا کی سیاست سے دور رہیں۔سابق آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سےیہ تنبیہ اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے معاملے کو بونڈائی بیچ میں ہونے والی فائرنگ سے جوڑا۔اردو نیوز کے مطابق آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرن بل نے گزشتہ روز …

کینبرا۔17دسمبر (اے پی پی):آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرن بل نے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کو تنبیہ کی ہے کہ وہ آسٹریلیا کی سیاست سے دور رہیں۔سابق آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سےیہ تنبیہ اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے معاملے کو بونڈائی بیچ میں ہونے والی فائرنگ سے جوڑا۔اردو نیوز کے مطابق آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرن بل نے گزشتہ روز کہا کہ میں احترام کے ساتھ نیتن یاہو سے کہنا چاہوں گا کہ براہِ کرم ہماری سیاست سے دور رہیں۔ اگر آپ اس قسم کے تبصرے کریں گے تو اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی اور یہ درست بھی نہیں ہے۔

انہوں نے موجودہ آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی حکومت کی حمایت کی، جنہوں نے اگست میں کئی دیگر مغربی ممالک کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ میلکم ٹرن بل نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اس تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ایک نہایت کامیاب کثیرالثقافتی معاشرہ ہے اور وہ غیر ملکی تنازعات کو اپنے ملک میں درآمد ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ہوں یا دنیا کے کسی اور حصے کی، وہ یہاں آ کر نہ لڑی جائیں۔ ان کو آپس میں جوڑنے کی کوشش، جیسا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کیا ہے، ہمارے لیے معاون نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بھی فلسطین سے متعلق ان کی پالیسی اور بونڈائی بیچ پر حملے کے درمیان تعلق سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم کے تبصروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بھاری اکثریت مشرقِ وسطیٰ میں آگے بڑھنے کے لئے دو ریاستی حل کو ہی واحد راستہ سمجھتی ہے۔ یہ قومی اتحاد کا لمحہ ہے، جہاں ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہسپتال میں اس شخص کی عیادت بھی کی جنہیں حملہ آوروں میں سے ایک کو قابو کرنے پر ہیرو قرار دیا گیا۔

احمد الاحمد، ایک دکاندار جو 2007 میں شام سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے، اس وقت ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔واضح رہے کہ آسٹریلیا میں اتوار کی شام کو یہودی تہوار کی تقریبات کے دوران فائرنگ سے15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ آسٹریلیا کےرواں سال کے آغاز میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے حملے سے قبل کے ہفتوں میں یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔