لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پانے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے اور ہم عدم جارحیت یا سلامتی کا معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی معاہدہ جامع امن معاہدہ نہیں ہوگا
اسرائیل کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ چاہتے ہیں، لبنانی صدر
بیروت ۔9جون (اے پی پی):لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پانے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے اور ہم عدم جارحیت یا سلامتی کا معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی معاہدہ جامع امن معاہدہ نہیں ہوگا۔العربیہ کے مطابق انہوں نے سی این این کو انٹرویو میں اسرائیلی حکومت اور عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے فوجی حل آپ کو اور شمال کے باشندوں کو تحفظ اور امن فراہم نہیں کریں گے۔جوزف عون نے کہا کہ ہم تیار ہیں اور پرعزم ہیں اور اگر آپ بھی تیار ہیں تو آئیے بیٹھیں اور بات کریں۔ اگر آپ کی امن سے رہنے کی خواہش نہیں ہے، تو ہم امن و امان سے نہیں رہ سکیں گے۔ لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات، جو 14 اپریل کو امریکی وزارت خارجہ میں شروع ہوئے تھے، رواں ماہ کی 22 تاریخ کو دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔گزشتہ ہفتے منگل اور بدھ کو مذاکرات کے چوتھے دور کے خاتمے کے بعد لبنان، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے مکمل خاتمے اور جنوبی لیطانی کے علاقے سے حزب اللہ کے تمام ارکان کے انخلا پر ہے اس سے قبل بیروت میں امریکی سفیر میشال عیسیٰ نے پیر کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنانیوں کی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت حاصل کرنے میں مددگار ہے۔لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد میشال عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے لبنان ۔امریکا ۔ اسرائیلی مذاکرات کے عمل اور لبنان میں موجودہ صورتحال کے خاتمے کے حوالے سے اس میں شامل امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات واشنگٹن میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں اور میرے لیے لبنانی مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرنا اہم ہے جو انتہائی پیشہ ورانہ مہارت رکھتی ہے اور ٹیم کے ارکان لبنانی موقف پر واضح اور کھلم کھلا بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم لبنانی معاملے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اورامریکی صدر ہمیشہ لبنان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ لبنانیوں کو اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ امریکی صدر روزانہ کی بنیاد پر لبنان ے مسئلے کے حل کے لئے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ صدر جوزف عون نے مذاکرات کا انتخاب کیا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں اور یہ لبنانیوں کی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔امریکی سفیر نے کہا کہ ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ برف پگھل چکی ہے اور ہم لبنان کے بحران سے نکلنے میں اس کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ یہ توقع نہیں کی جاتی کہ تمام مسائل ایک ہی ملاقات میں حل ہو جائیں گے ۔ ان مذاکرات کا تسلسل لبنان اور خطے کے عمومی عمل پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی اسرائیل اور ایران نے بھی ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔









