اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام چائنا-پاکستان سٹڈی سینٹر (سی پی ایس سی)نےاپنی نئی کتاب "پاکستان اور چین: عوامی سطح پر روابط" کی تقریب رونمائی منعقد کی جس میں پاکستان کے سابق سفیر برائے چین مسعود خالد، سابق سفیر معین الحق، بحریہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر حسن دائود بٹ، نسٹ کی ڈاکٹر سندس مستقیم، ایئر یونیورسٹی کی عائزہ اعظم …
اسلام آباد،پاکستان اور چین کے عوامی روابط پر نئی کتاب کی تقریب رونمائی،چینی سفارتخانے کے نمائندے اور سابق پاکستانی سفرا نے شرکت کی

مزید خبریں
اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام چائنا-پاکستان سٹڈی سینٹر (سی پی ایس سی)نےاپنی نئی کتاب "پاکستان اور چین: عوامی سطح پر روابط” کی تقریب رونمائی منعقد کی جس میں پاکستان کے سابق سفیر برائے چین مسعود خالد، سابق سفیر معین الحق، بحریہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر حسن دائود بٹ، نسٹ کی ڈاکٹر سندس مستقیم، ایئر یونیورسٹی کی عائزہ اعظم اور چینی سفارتکار شو ہانگ تیان نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی منفرد نوعیت کے ہیں اور گزشتہ سات دہائیوں سے علاقائی و عالمی تبدیلیوں کے باوجود مضبوطی سے قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اور جسمانی روابط کے ساتھ ساتھ عوامی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ سفیر سہیل محمود نے چین-
پاکستان حالیہ پانچ سالہ "ایکشن پلان” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوامی روابط کے لیے مکمل باب شامل کیا گیا ہے جو اعلیٰ سطح پر اس پہلو کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے 2026 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر نوجوانوں، طلبہ، فنکاروں، میڈیا اور تھنک ٹینکس کی شمولیت سے خصوصی تقریبات منعقد کرنے کی تجویز بھی دی۔
سابق سفیر معین الحق نے عوامی روابط کے فروغ کے لیے تہذیبی، ثقافتی، معاشی، ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں پر زور دیا اور ہر صوبے میں مشترکہ آئی ٹی پارکس اور گروپ ٹوورازم پروگرامز کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ڈاکٹر حسن داود بٹ نے کہا کہ کتاب کا اجرا سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے ہم آہنگ ہے جو ادارہ جاتی اور معاشرتی روابط پر زور دیتا ہے۔
ڈاکٹر سندس مستقیم اور عائزہ اعظم نے تعلیم، میڈیا، سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں روابط کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سفیر مسعود خالد نے کہا کہ چین کے تعاون سے پاکستان سیاحتی شعبے سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کما سکتا ہے اور عوامی روابط کے ذریعے غلط فہمیوں کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔
چینی سفارتکار شو ہانگ تیان نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط میں اضافے، طلبہ کے تبادلوں اور ویزا سہولتوں میں بہتری کا ذکر کیا اور جھوٹی خبروں کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔ تقریب میں سفارتکاروں، ماہرین، اساتذہ، اور پالیسی سازوں نے شرکت کی اور پاکستان-چین تعلقات کے سماجی و ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے پر کتاب کو سراہا۔








