اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) پولیس نے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز IV کے سوک سینٹر میں غیر قانونی مساج سینٹرز اور شیشہ کیفے کے خلاف رات گئے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 9 مقامات کو سیل کر دیا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔
اتوار کو پولیس حکام نے بتایا کہ چھاپے کی نگرانی ایس پی سہالہ زون کیپٹن (ر) خرم اشرف نے کی جبکہ ایس ایچ اوز فواد خالد (لوئی بھیر)، میاں ذوالفقار (سہالہ) اور عالمگیر خان (کورال) نے اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کی ۔ پولیس آپریشن 12:15 بجے شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ 9 مساج سینٹرز کا معائنہ کیا گیا جن میں سن لائٹ، گولڈن ، ایس کے ، مائنڈ ریلیکس ، لائف ریلیکس ، سرینا ، بلیک اور اے جے مساج سینٹرز شامل ہیں۔ چھاپوں کے دوران کل 69 افراد جن میں 45 خواتین اور 24 مرد شامل ہیں ، کو حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان کے خلاف غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں آٹھ الگ الگ مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ خواتین پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور گرفتاریوں کے دوران مناسب طریقہ کار کو یقینی بنایا۔پولیس ترجمان نے کہا کہ کریک ڈاؤن متعدد عوامی شکایات پر کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی ٹی پولیس ایسی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
پرائیویٹ کمپنی کے ملازم اور سوسائٹی کے رہائشی بلال شبیر نے اس حوالہ سے کہا کہ ہم نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ قانونی ذرائع سے ان مراکز کو مستقل طور پر بند کیا جائے۔ ایک اور رہائشی ریٹائرڈ پروفیسر ارشاد نے اس مطالبے پر زور دیا کہ کمیونٹی کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں۔
ایک اور رہائشی ایڈووکیٹ رائے عثمان نے کہا کہ صرف سخت قانونی دفعات کے تحت ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرکے اور مثالی سزائیں دینے سے ہی اس لعنت کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جاسکتا ہے۔نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مکینوں نے بروقت کارروائی کو بڑے پیمانے پر سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے آپریشنز وفاقی دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔