اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کیلئے نیب کی انسداد منی لانڈرنگ پر خصوصی تربیتی نشست
اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کیلئے نیب کی انسداد منی لانڈرنگ پر خصوصی تربیتی نشست

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پی اے سی اے) میں اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججز کے لیے انسداد منی لانڈرنگ، مقدمات کی تفتیش، قانونی چارہ جوئی اور عالمی فریم ورک کے موضوع پر خصوصی تربیتی نشست کا انعقاد کیا۔
تربیتی پروگرام کا مقصد اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے موثر نفاذ، عدالتی استعداد کار میں اضافے اور مالیاتی جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔
نشست کے مہمان خصوصی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس تھے جبکہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے تقریب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر، ڈی جی پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی غلام صفدر شاہ، نیب کے سینئر افسران اور اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججز بھی موجود تھے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت اور اچھی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے تفتیشی اداروں، پراسیکیوٹرز، مالیاتی اداروں اور عدلیہ کے درمیان موثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے جدید مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کیا۔ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی مختلف شقوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار، تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ، شیل کمپنیوں اور کرپٹو کرنسی کے غلط استعمال جیسے موضوعات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے منی لانڈرنگ سے حاصل شدہ اثاثوں کی ضبطی اور بحق سرکار ضبط کرنے سے متعلق عدالتوں کے اختیارات پر بھی روشنی ڈالی۔نیب کے سپیشل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل محمد طاہر نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) اور اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے تحت عالمی اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک، متوازی مالیاتی تحقیقات اور چوری شدہ اثاثوں کی واپسی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے طریقہ کار پر اظہار خیال کیا۔
فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ماسٹر ٹرینر نور السحر نے پاکستان کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ کے کردار، مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (ایس ٹی آرز) اور goAML پلیٹ فارم کی اہمیت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات کامیاب استغاثہ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اختتامی خطاب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس نے اس اقدام کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید مالیاتی جرائم سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے عدلیہ کی مسلسل تربیت اور استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔
تقریب کے اختتام پر شریک ججوں میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر اور ڈی جی پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی غلام صفدر شاہ نے مہمان خصوصی جسٹس انعام امین منہاس کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔ نیب کے مطابق اس تربیتی پروگرام کا مقصد منی لانڈرنگ اور مالیاتی بدعنوانی کے خلاف پاکستان کے ادارہ جاتی اور عدالتی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔








