اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ان کے وکلاء سے ملاقات کرانے کے لیے جمعرات کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ سکیورٹی انتظامات کریں اور بانی پی ٹی آئی کو عدالت لے کر آئیں وہ اپنے وکلاء کے ساتھ میٹنگ کر لیں گے۔ عدالت نے کہا کہ اگر آپ نہیں لائے تو وجہ بتا کر مطمئن کریں کہ کس سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے نہیں لائے۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیئے وزارت داخلہ کی رپورٹ دیں اور بتائیں کہ کیا سکیورٹی تھریٹس ہیں؟ وزارت داخلہ سے سکیورٹی تھریٹس سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا۔ عدالتی احکامات کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کی جیل میں ملاقات کروا دی گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بانی پی ٹی آئی کی ان کے وکلاء سے ملاقات نا کرانے پر فیصل چودھری ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ 3 اکتوبر سے آج تک وکلاء کی بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقات نہیں کرائی گئی۔ہم اگر جیل چلے جاتے تو کیا ہم سے کوئی سکیورٹی تھریٹ ہیں؟ سٹیٹ کونسل نے کہا جیل میں سماعتیں نہیں ہو رہی تھیں اس لئے ان کی ملاقات نہیں کرائی گئی۔ فاضل جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزارت داخلہ نے آکر بتاناہے کہ کون سی سکیورٹی تھریٹ تھی کہ وکلاء بھی نہیں جا سکتے تھے۔ عدالت نے پہلے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ویڈیو لنک کے ذریعے ملاقات کرانے کا حکم دیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس آرڈر پر اعتراض اٹھایا کہ توہین عدالت کیس میں عدالت ایسا آرڈر پاس نہیں کر سکتی جس کے بعد عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقات کرانے کے لیے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری کو ریکارڈ کے ہمراہ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آفس کو بھی عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالتی احکامات کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے جیل میں ملاقات کی ۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=516626