کابل۔15جنوری (اے پی پی):افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی)نےایک نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت افغان کرکٹرز کو ایک سال میں زیادہ سے زیادہ تین غیر ملکی ٹی ٹونٹی لیگز میں شرکت کی اجازت ہوگی۔ ای ایس پی این کے مطابق یہ فیصلہ کابل میں منعقدہ بورڈ کے سالانہ اجلاس کے دوران کیے گئے اہم پالیسی فیصلوں میں شامل ہے۔اے سی بی کے جاری کردہ بیان …
افغانستان کرکٹ بورڈ کا کھلاڑیوں کے لیے غیر ملکی ٹی ٹونٹی لیگز پر پابندی کا فیصلہ

مزید خبریں
کابل۔15جنوری (اے پی پی):افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی)نےایک نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت افغان کرکٹرز کو ایک سال میں زیادہ سے زیادہ تین غیر ملکی ٹی ٹونٹی لیگز میں شرکت کی اجازت ہوگی۔ ای ایس پی این کے مطابق یہ فیصلہ کابل میں منعقدہ بورڈ کے سالانہ اجلاس کے دوران کیے گئے اہم پالیسی فیصلوں میں شامل ہے۔اے سی بی کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اقدام کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس اور ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کھلاڑی اب افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل)کے علاوہ سالانہ صرف تین بین الاقوامی لیگز میں حصہ لے سکیں گے تاکہ کام کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور قومی ذمہ داریوں کے لیے بہترین کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بورڈ کی نئی پانچ ٹیموں پر مشتمل فرنچائز ٹی ٹونٹی لیگ اکتوبر 2026 کے آس پاس متحدہ عرب امارات میں شروع کی جائے گی، جو مستقبل میں افغان کرکٹ کے ڈھانچے کا اہم حصہ ہوگی۔اس فیصلے سے افغانستان کے سٹار سپنر راشد خان جیسے کھلاڑی مالی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ راشد خان جو ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں، اس وقت مختلف عالمی فرنچائز لیگز میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں آئی پی ایل، ایس اے 20، آئی ایل ٹی 20 اور میجر لیگ کرکٹ شامل ہیں۔
نئی پالیسی کا اطلاق نور احمد، مجیب الرحمان، اے ایم غضنفر اور رحمان اللہ گرباز جیسے دیگر افغان کھلاڑیوں پر بھی ہو سکتا ہے، جو دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں خاصی مانگ رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ دیگر کرکٹ بورڈز بھی اپنے کھلاڑیوں کی فرنچائز لیگز میں شرکت پر حدود مقرر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان سپر لیگ کے علاوہ صرف دو غیر ملکی لیگز میں شرکت کی اجازت دیتا ہے۔
افغانستان کی آئندہ بین الاقوامی مصروفیت متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز ہے، جس کے بعد ٹیم 2026 ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے بھارت کا رخ کرے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اے سی بی کا یہ فیصلہ طویل المدتی بنیادوں پر قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، تاہم اس پر کھلاڑیوں اور فرنچائز لیگز کی جانب سے ردِعمل آنا ابھی باقی ہے۔








