الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن صوبائی لوکل گورنمنٹ قانون میں حالیہ ترمیم کی وجہ سے کچھ اضلاع میں انتخابی عمل کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ہے۔ ہفتہ کو یہاں جاری ہونے والے ای سی پی کے سرکاری اعلامیے کے مطابق صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا …
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کےلیے مکمل تیار، الیکشن قانونی ترمیم کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے، الیکشن کمیشن

مزید خبریں
پشاور۔ 01 اگست (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن صوبائی لوکل گورنمنٹ قانون میں حالیہ ترمیم کی وجہ سے کچھ اضلاع میں انتخابی عمل کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ہے۔ ہفتہ کو یہاں جاری ہونے والے ای سی پی کے سرکاری اعلامیے کے مطابق صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی سات اضلاع میں کام جاری ہے۔
کمیشن نے الیکشن شیڈول کا اعلان کرنے سے پہلے الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 219(3) کے تحت 14 جولائی کو خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ایک مشاورت کا اجلاس منعقد کیا اور صوبائی حکومت کو جواب دینے کے لیے 15 دن کی مہلت دی۔ کمیشن نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 21 جولائی کو خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے ولیج اور نیبر ہوڈ کونسلوں کی آبادی کی حدوں میں اضافہ کیا لیکن نشستوں کی تعداد سے متعلق نویں شیڈول میں اس کے مطابق تبدیلیاں نہیں کیں۔
اس عدم مطابقت نے ایک قانونی پیچیدگی پیدا کر دی جس نے متاثرہ اضلاع میں حلقہ بندیوں کو ناممکن بنا دیا اور صوبائی حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے کی اطلاع دی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے 28 جولائی کو کمیشن کو مطلع کیا کہ وہ نویں شیڈول میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور قانون سازی مکمل کرنے کےلیے تین ہفتوں کا وقت مانگا۔
کمیشن نے اس درخواست کو منظور کر لیا اور کہا کہ وہ قانونی مسئلہ حل ہونے کے بعد صوبے میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ای سی پی نے یہ بھی کہا کہ آئین اور الیکشنز ایکٹ کے تحت وہ مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے 120 دنوں کے اندر لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کا پابند ہے، حلقہ بندیوں کے عمل کے دوران لوکل گورنمنٹ کے قوانین میں بار بار ہونے والی ترمیم نے انتخابات کے بروقت انعقاد کو متاثر کیا ہے۔







