28.2 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومقومی خبریںاقلیتی برادریوں کے لئے قوانین کی تجدید ،کمزور طبقات کی حفاظت کے...

اقلیتی برادریوں کے لئے قوانین کی تجدید ،کمزور طبقات کی حفاظت کے لئے ان پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے،نیلوفر بختیار

- Advertisement -

اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے کہا ہے کہ اقلیتی برادریوں کے لئے قوانین کی تجدید اور خواتین سمیت معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کی حفاظت کے لئے ان پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں مسیحی شخصی قوانین پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے  بحیثیت کلیدی مقرر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ کانفرنس سول سوسائٹی کی تنظیموں اور اقلیتی حقوق کے کارکنوں کے اتحاد کے زیر اہتمام منعقد ہوئی ۔

نیلوفر بختیار نے کہا کہ یہ ریاست کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پرانے فرسودہ خاندانی قوانین کو اپ ڈیٹ کریں اور ان میں موجود خرابیوں اور کمیوں کاجائزہ لیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی طبقہ اپنے آئینی حقوق سے محروم نہ ہو۔ انہوں نے اپنے قانونی حقوق کے حصول میں مسیحی برادری کے لئے  کمیشن کی جانب سے مکمل حمایت اور مدد کا یقین بھی دلایا۔

- Advertisement -

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ قانون نے مسیحی لڑکیوں کو 13 سال اور لڑکوں کو 16 سال کی عمر میں شادی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے سراسر منافی ہے اور کم عمری کی شادی کے زمرے میں آتی ہے جو نہ صرف کئی نسلوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کررہی ہے بلکہ اس کے سنگین مالی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ کانفرنس میں مختلف قومی سیاسی جماعتوں، اقلیتی برادری کے رہنمائوں، پارلیمنٹیرینز، وکلاء، مسیحی رہنمائوں، صحافیوں، اور انسانی حقوق کے گروپوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس میں مسیحی طلاق ایکٹ 1869 اور کرسچن میرج ایکٹ 1872  کو اپ ڈیٹ اور اصلاح کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا ۔کانفرنس میں پاکستان میں مسیحیوں  کے لیے شادی، طلاق، تحویل، دیکھ بھال، وراثت، اور گود لینےکے معاملات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع مسیحی خاندانی قانون کو بھی متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

معاشرے میں مختلف طبقات کی نمائندگی کرنے والے مقررین اور افراد نے اجتماعی طور پر سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی مزید تاخیر کے مسیحی ذاتی قوانین کو اپ ڈیٹ، پاس اور نافذ کریں۔ یہ عمل ان کے حقوق کے تحفظ اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو بااختیار بنانے کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=415464

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں