اقوام متحدہ۔6اگست (اے پی پی):پاکستان نے غزہ میں حالات بدستور خراب ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی وحشیانہ جنگ اور فلسطینی عوام کو درپیش مصائب کے خاتمے کے لئے ابھی اقدامات کرے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز 15 رکنی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر منعقدہ مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا بے یقینی کے عالم میں یہ سب دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچایا ہے، اندھا دھند قتل عام ، پوری کی پوری آبادیوں کو بھوک سے مارنے ، محصور لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔یہ اقدامات نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہیں بلکہ یہ جنیوا کنونشنز سمیت بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے واضح اقدامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔ پاکستانی مندوب نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں 60 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 18 ہزار 500 بچے شامل ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے فلسطینی بچےہر گھنٹے میں ایک سے زیادہ کی شرح سے شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تقریباً 9,500 فلسطینی، جن میں سینکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، اس وقت اسرائیلی قید میں ہیں، جن میں سے ایک تہائی کے قریب بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید ہیں ۔ پاکستانی مندوب نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کے خوفناک نتائج بارے سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی محاصرے کے باعث 93 بچوں سمیت 175 فلسطینی بھوک سےشہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انسانی امداد کی ترسیل بھی جان لیوا ہو گئی ہے، مئی سے لے کر اب تک امداد حاصل کرنے کے لئے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری میں 1,200 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ شہریوں کے خلاف یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، مکمل اسرائیلی انخلاء، یرغمالیوں کی رہائی اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ کیا۔ مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے کے ابتدائی مرحلے کے نتیجے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا لیکن اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کو معطل کرنے کے باعث مزید یرغمالی رہا نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، جو دشمنی کے خاتمے اور انتہائی ضروری امداد کی فراہمی کے لیے ایک قابل عمل، قابل عمل روڈ میپ پیش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے جاری المیے کی بنیادی وجہ کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا طویل، غیر قانونی قبضہ ہے۔جب تک یہ قبضہ برقرار رہے گا، امن کا حصول مشکل ہو گا ۔
پاکستانی مندوب نے پائیدار اور منصفانہ سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست قائم ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی کانفرنس، جس میں دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی، صرف ایک آغاز ہے اصل ضرورت اب عملی اقدامات کرنے کی ہے تاکہ برسوں پر محیط خونریزی اور مصائب کا خاتمہ ہو اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔