اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 50 سال بعد دوبارہ مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی، وزیراعظم عمران خان

مظفر آباد۔ 13 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 50 سال بعد دوبارہ مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی ہے، اسی طرح یورپی یونین، او آئی سی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھارتی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ …

مظفر آباد۔ 13 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 50 سال بعد دوبارہ مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی ہے، اسی طرح یورپی یونین، او آئی سی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھارتی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 50 سال بعد اس مسئلہ پر بات ہوئی ہے، یورپی یونین نے بھی پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورتحال پر 58 ممالک نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے اور اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرامن انداز میں اس کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کشمیر پر عائد کرفیو اٹھائے۔ اسی طرح برطانیہ کے 50 ارکان پارلیمنٹ نے برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق کی بات کی ہے جبکہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکی سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر انہیں کشمیر میں مداخلت کرنے کا کہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اگلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک جا رہا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اپنے کشمیری بھائیوں کو مایوس نہیں کروں گا، کشمیریوں کا موقف ایسے جاندار انداز میں پیش کروں گا جیسا اس سے قبل کبھی کوئی اور نہیں پیش کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھاﺅں گا، میں نے روسی ٹیلی ویژن کو کشمیر کے حوالے سے انٹرویو دیا ہے جبکہ الجزیرہ پر بھی میرا انٹرویو نشر ہوگا، آپ کو فخر ہوگا کہ کشمیریوں کا سفیر کشمیر کے لئے کھڑا ہے۔