امدادی فنڈز کی کمی کے باعث افغانستان میں بھوک کا بحران مزید سنگین، اقوام متحدہ رپورٹ

اقوام متحدہ ۔17دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ وہ کئی دہائیوں میں پہلی بار غذائی قلت کا شکار لاکھوں افغانوں کو مؤثر امداد فراہم کرنے سے قاصر ہے، اور اس موسمِ سرما میں خصوصاً بچوں میں اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنگ سے تباہ حال افغانستان کو دی جانے والی بین الاقوامی امداد …

اقوام متحدہ ۔17دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ وہ کئی دہائیوں میں پہلی بار غذائی قلت کا شکار لاکھوں افغانوں کو مؤثر امداد فراہم کرنے سے قاصر ہے، اور اس موسمِ سرما میں خصوصاً بچوں میں اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنگ سے تباہ حال افغانستان کو دی جانے والی بین الاقوامی امداد میں 2021 کے بعد نمایاں کمی آئی ہے، جب امریکی قیادت میں افواج نے ملک چھوڑا اور طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے۔ اس بحران کو زلزلوں سمیت متعدد قدرتی آفات نے مزید بدتر کر دیا۔ورلڈ فوڈ پروگرام کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’کئی دہائیوں میں یہ پہلی بار ہے کہ ڈبلیو ایف پی نہ تو موسمِ سرما کے لیے کوئی بڑا امدادی پروگرام شروع کر سکتا ہے اور نہ ہی ملک بھر میں ہنگامی اور غذائی امداد میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ادارے نے مزید کہا کہ 60 لاکھ انتہائی کمزور افغانوں کو خوراک کی امداد فراہم کرنے کے لیے اسے 460 ملین ڈالر سے زائد رقم درکار ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بچوں میں غذائی قلت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور بنیادی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس کے سبب علاج تک رسائی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان کے شدید سرد موسم میں، جب خوراک سب سے کم دستیاب ہوتی ہے، بچوں کی اموات میں اضافے کا امکان ہے۔ڈبلیو ایف پی کا اندازہ ہے کہ 1 کروڑ 70 لاکھ افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 لاکھ زیادہ ہیں۔ اس اضافے کی ایک وجہ پڑوسی ممالک ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغانوں کی بے دخلی ہے، جہاں مہاجرین اور پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کے پروگرام جاری ہیں۔