واشنگٹن۔17دسمبر (اے پی پی):امریکانے ستمبر میں برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے ٹیکنالوجی تعاون کے معاہدے پر عملدرآمدروک دیا ہے۔شنہوا کے مطابق وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے سربراہ مائیکل کریٹسوس نےایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یو ایس ۔ یوکے ٹیکنالوجی پراسپیرٹی ڈیل کے سیکشن تھری کے تحت امریکا کو امید ہے کہ برطانیہ اقتصادی خوشحالی معاہدے(Economic Prosperity Deal)کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں پر …
امریکانے برطانیہ کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون معاہدے پر عملدرآمدروک دیا

مزید خبریں
واشنگٹن۔17دسمبر (اے پی پی):امریکانے ستمبر میں برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے ٹیکنالوجی تعاون کے معاہدے پر عملدرآمدروک دیا ہے۔شنہوا کے مطابق وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے سربراہ مائیکل کریٹسوس نےایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یو ایس ۔ یوکے ٹیکنالوجی پراسپیرٹی ڈیل کے سیکشن تھری کے تحت امریکا کو امید ہے کہ برطانیہ اقتصادی خوشحالی معاہدے(Economic Prosperity Deal)کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں پر خاطر خواہ پیش رفت کے بعد تعاون دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکامعاہدے کے تحت مصنوعی ذہانت، کوانٹم، سول نیوکلیئر اور دیگر اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعمیری تعاون کے تسلسل کا خواہاں ہے۔برطانوی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ٹیکنالوجی تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد روک دیا ہے۔اس کے باوجود برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں فنانشل ٹائمز اور رائٹرز کے مطابق امریکی حکام برطانیہ کی ڈیجیٹل ریگولیشن، خوراک کے معیار اور صنعتی مصنوعات سے متعلق قواعد و ضوابط پر عدم اطمینان کا شکار ہیں، جس کے باعث انہوں نے ٹیکنالوجی تعاون معاہدے پر عملدرآمدروک دیا ہے۔یاد رہے کہ یہ ٹیکنالوجی معاہدہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران طے پایا تھا، جس کا مقصد نئی ادویات کی تحقیق، کین کے بہتر علاج اور سول نیوکلیئر منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
واضح رہے کہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی خوشحالی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں وسیع پیمانے پر ٹیرف کے اعلان کے بعد طے پانے والا پہلا تجارتی معاہدہ تھا۔








