واشنگٹن ۔2اپریل (اے پی پی):پینٹاگون نےکہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں تعینات طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد بڑھا کر دو کر رہا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک طیارہ بردار جہاز پہلے سے موجود ہے، جبکہ دوسرا انڈو پیسیفک سے بھیج رہا ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی افواج یمن کے حوثی باغیوں کو ایک مہم میں تقریباً روزانہ فضائی حملوں سے نشانہ بنا رہی ہیں، جس کا مقصد اس خطرے کو ختم کرنا ہے جو ان سے خطے میں شہری جہاز رانی اور فوجی جہازوں کو لاحق ہے۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کارل ونسن مشرق وسطیٰ میں ہیری ایس ٹرومین کے ساتھ علاقائی استحکام کو فروغ دینے، جارحیت کو روکنے اور خطے میں تجارت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بحری بیڑے میں شامل ہوں گے۔
پارنیل نے خطے کے لیے ذمہ دار امریکی فوجی کمانڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فضائی اثاثوں کی تعیناتی کا بھی حکم دیا جو ہماری فضائی صلاحیتوں کو مزید تقویت بخشیں گے۔پینٹاگون کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے شراکت دار علاقائی سلامتی کے لیے پرعزم ہیں اور خطے میں تنازعات کو بڑھانے یا وسعت دینے کی کوشش کرنے والے کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر یمن کے حوثی باغیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حوثیوں کا انتخاب واضح ہے، امریکی بحری جہازوں پر حملے کرنے بند کرو، ہم تم پر حملے کرنا بند کر دیں گے ورنہ، ہم نے ابھی آغاز کیا ہے اور اصل درد ابھی آنا باقی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 مارچ کو یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ایران کو بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرتا ہے تو بمباری ہو گی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=577922