واشنگٹن ۔17دسمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا جانے اور وہاں سے آنے والے تمام پابندی زدہ آئل ٹینکروں کی مکمل ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے، جس سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف جاری دباؤ کی مہم میں مزید شدت آ گئی ہے۔شنہوا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ وینزویلا کی جانب …
امریکا کا وینزویلا جانے اور آنے والے پابندی زدہ آئل ٹینکرز کی مکمل ناکہ بندی کا حکم،وینزویلا حکومت کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دینے کا اعلان

مزید خبریں
واشنگٹن ۔17دسمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا جانے اور وہاں سے آنے والے تمام پابندی زدہ آئل ٹینکروں کی مکمل ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے، جس سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف جاری دباؤ کی مہم میں مزید شدت آ گئی ہے۔شنہوا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ وینزویلا کی جانب جانے والے اور وہاں سے روانہ ہونے والے تمام آئل ٹینکر ز جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، کی ’’مکمل اور جامع ناکہ بندی‘‘ کا حکم دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی حکومت کو باضابطہ طور پر ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے دیا گیا ہے اور اس پر دہشت گردی، منشیات اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کسی ’’دشمن حکومت‘‘ کو اپنے تیل، زمین یا دیگر اثاثوں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور مطالبہ کیا کہ وینزویلا وہ تمام اثاثے واپس کرے جو ان کے بقول ماضی میں امریکا سے ’’چوری‘‘ کئے گئے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا اس وقت جنوبی امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے بحری بیڑے کے گھیرے میں ہے، اور یہ دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مبینہ طور پر ضبط کیے گئے امریکی اثاثے واپس نہیں کیے جاتے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر ضبط کیا تھا، جبکہ صدر نکولس مادورو کی اہلیہ کے تین بھانجوں، صدر سے وابستہ ایک تاجر اور تیل کی ترسیل میں ملوث چھ کمپنیوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے اوائل سے اب تک امریکی فورسز نے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں کم از کم 25 مبینہ منشیات بردار کشتیوں کو تباہ کیا، جن میں سوار کم از کم 95 افراد ہلاک ہوئے۔گزشتہ تقریباً چار ماہ سے امریکا کیریبین میں، خصوصاً وینزویلا کے ساحل کے قریب، نمایاں فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، جسے منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم وینزویلا نے ان اقدامات کو حکومت کی تبدیلی کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔








