بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور علاقائی ماہرین نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے لفظ ”انڈو“ کو ہٹا کر اپنی سب سے بڑی فوجی کمان کو اس کے سابقہ نام ’’یو ایس پیسیفک کمانڈ ‘‘میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو واشنگٹن کے دفاعی ڈھانچے میں بھارت کی مرکزی تذویراتی حیثیت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے
امریکہ کی جانب سے پیسیفک کمانڈ کے نام سے’’انڈو‘‘ ہٹائے جانے کے بعد واشنگٹن میں بھارت کی تذویراتی ساکھ زوال کا شکار

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور علاقائی ماہرین نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے لفظ ”انڈو“ کو ہٹا کر اپنی سب سے بڑی فوجی کمان کو اس کے سابقہ نام ’’یو ایس پیسیفک کمانڈ ‘‘میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو واشنگٹن کے دفاعی ڈھانچے میں بھارت کی مرکزی تذویراتی حیثیت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔یہ کمان 1947 میں قائم کی گئی تھی اور 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے نئی دہلی کو اپنی ایشیائی حکمتِ عملی میں شامل کرنے کے لیے اس کا نام تبدیل کرکے ”انڈو پیسیفک کمانڈ“ رکھا تھا۔
اب اسے دوبارہ ’’پیسفک کمانڈ‘‘قرار دینا امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم ازسرِنو جائزے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ناقدین اور تذویراتی ماہرین اس فیصلے کو اس بات کا واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں کہ واشنگٹن بھارت کو اپنے دفاعی نظام کے مرکز سے ہٹا کر حاشیے کی جانب لے جا رہا ہے، جس سے فوراً یہ سوال اٹھتا ہے کہ ’’کواڈ ‘‘ کی بقاء اور افادیت کا مستقبل کیا ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق وہ سفارتی اور عسکری ماحول، جس نے بھارت کو خطے میں جارحانہ کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا تھا تیزی سے محدود ہو رہا ہے، جس کے باعث نئی دہلی اپنی تذویراتی سوچ میں پہلے سے زیادہ تنہائی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔خطے کی نمایاں آوازوں اور جغرافیائی سیاسی ماہرین نے اس اقدام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی واشنگٹن میں بھارت کی علامتی اور ادارہ جاتی حیثیت کو کمزور کرتی ہے۔اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ عالمی سفارت کاری میں ناموں کی تبدیلی دراصل گہرے ساختی تغیرات کی عکاسی کرتی ہے۔
جغرافیائی سیاسی تجزیہ کار افتخار فردوس نے کہا کہ نام راتوں رات جغرافیائی سیاست نہیں بدلتے، لیکن جغرافیائی سیاست میں نام اکثر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکمتِ عملی کس سمت جا رہی ہے۔فردوس کے مطابق یہ ساختی تبدیلی امریکہ اور بھارت کے تعلقات کے فریم ورک میں ایک نمایاں دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کی توجہ مزید مشرق کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کواڈ کی مستقبل کی افادیت مشکوک دکھائی دیتی ہے۔اس فیصلے نے نئی دہلی میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ بھارتی تذویراتی مفکر ڈاکٹر برہما چیلانی نے بھی بھارت کی جغرافیائی سیاسی اہمیت میں نمایاں کمی کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ پینٹاگون کی جانب سے ’’انڈو‘‘ کو ہٹا کر دوبارہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام اختیار کرنا اور ساتھ ہی حالیہ امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی ( این ایس ایس ) میں بھارت کا بمشکل ذکر ہونا، فطری طور پر واشنگٹن میں بھارت کی حیثیت کے بارے میں سوالات پیدا کرتا ہے۔
چیلانی کے مطابق دوطرفہ تعلقات اب کسی مثالی ”مشترکہ تذویراتی وژن“ پر مبنی نہیں رہے بلکہ عملی مفادات تک محدود ہو گئے ہیں کیونکہ واشنگٹن چین کے ساتھ مفاہمت کا راستہ تلاش کر رہا ہے اور برصغیر میں توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی روایتی جغرافیائی سیاسی اہمیت کو دوبارہ تسلیم کر رہا ہے۔معروف بھارتی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی ماہر سدارتھ نے کہا کہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش نہ کریں کہ یہ صرف ایک نام کی تبدیلی ہے۔ 2018 میں ’’انڈو پیسیفک کمانڈ‘‘کا نام رکھنا ایک تذویراتی پیغام تھا کہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل ایک مربوط خطہ ہیں اور ایشیا میں طاقت کے توازن کے لیے بھارت مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پیسفک کمانڈ کی طرف واپسی اس کے برعکس پیغام دیتی ہے۔
بھارتی رکنِ پارلیمان ششی تھرور نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پیش رفت ”کواڈ ‘‘کے تابوت میں ایک اور کیل ثابت ہوگی؟پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی غلط نام کی اصلاح قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اچھی خبر! 2018 میں وضع کیا گیا ’’انڈو پیسیفک کمانڈ ‘‘دراصل ایک غلط اصطلاح تھی، جس کے نظریاتی مقاصد تھے اور جس کا مقصد چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ناکام حکمتِ عملی میں بھارت کو شامل کرنا تھا۔ خوشی ہے کہ زمینی حقائق کی عکاسی کرنے والی بہتر سوچ غالب آ گئی ہے۔ پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ قومی وقار کو بیرونی فوجی اصطلاحات سے وابستہ کرنا نفسیاتی کمزوری کی علامت ہے اور یہ کہ نئی دہلی کی خود ساختہ اہمیت کتنی جلدی کمزور پڑ گئی۔
انہوں نے کہا کہ قابلِ غور بات ہے کہ صرف ایک نام کی تبدیلی کسی ملک کی اپنی اہمیت اور وقار کے بارے میں سوچ کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ شاید بہتر یہی ہے کہ ہماری اہمیت اور حیثیت کا تعین ہمارے اپنے فیصلوں سے ہو۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنوبی ایشیا ایک ایسے دور میں داخل ہوگا جو جغرافیا کے انکار کرنے والوں سے نجات حاصل کرے گا۔دفاعی تجزیہ کار فہد جرّال نے واشنگٹن کے نئے علاقائی فریم ورک میں پاکستان اور بھارت کی مختلف سمتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون نے ابھی ’’انڈو‘‘ کو انڈو پیسیفک کمانڈ کے نام سے ہٹا دیا ہے۔ واشنگٹن کا علاقائی ڈھانچہ حقیقی وقت میں ازسرِنو تشکیل پا رہا ہے۔ پاکستان نے محض تین ماہ میں اسی واشنگٹن کے لیے اپنی اہمیت منوا لی اور اس کے لیے اسے کسی ’’کواڈ‘‘ کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔








