امریکی فوج کی تنظیم نو کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے ، پینٹاگون

واشنگٹن ۔17دسمبر (اے پی پی):امریکی حکام فوج کی تنظیم نو کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس امر کی درخواست پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کی ہے۔ تاکہ فوج کے فور سٹار جرنیلوں میں کمی کی جائے اور بین الاقوامی کمانڈ سینٹرز کو مضبوط کیا جائے۔اخبار کے مطابق اگر اس تجویز کو اختیار کر لیا گیا تو یہ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں …

واشنگٹن ۔17دسمبر (اے پی پی):امریکی حکام فوج کی تنظیم نو کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس امر کی درخواست پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کی ہے۔ تاکہ فوج کے فور سٹار جرنیلوں میں کمی کی جائے اور بین الاقوامی کمانڈ سینٹرز کو مضبوط کیا جائے۔اخبار کے مطابق اگر اس تجویز کو اختیار کر لیا گیا تو یہ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔ جو کئی دہائیوں بعد ہوں گی۔اخبار نے اس سلسلے میں پانچ مختلف ذرائع کا حوالہ دیا ہے جو فوج کی تنظیم نو سے متعلق ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکا کے جوائنٹ چیفس چیئرمین ڈین کینے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پینٹاگون سربراہ کو اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں منصوبہ پیش کریں گے۔ جس پر اعلیٰ ترین فوجی حکام تبادلہ خیال کریں گے۔اس بارے میں پینٹاگون کے ایک ترجمان نے تبصرے کی درخواست کے باوجود تبصرے سے گریز کیا ہے۔منصوبے کے تحت فوجی حکام میں اعلیٰ عہدوں میں کمی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں فوج کی سنٹرل کمانڈ ، یورپین کمانڈ اور یو ایس افریقی کمانڈ کو ایک نئی تنظیمی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔

جسے امریکی بین الاقوامی کمانڈ کا نام دیا جائے گا۔اس تبدیلی کے نتیجے میں امریکی فوج کے جرنلز اور بحریہ کے ایڈمرلز میں بھی کمی آئی گی۔ان تجاویز کی منظوری پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں دیں گے۔منصوبے کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے آنے کے بعد پینٹاگون کے لیے بڑا ‘شیک اپ’ ہوگا۔ جس انتظامیہ نے پہلے ہی کئی سینیئر افسروں کو اس سال فارغ کیا ہے۔

پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے مئی میں یہ حکم دیا تھا کہ فوج کے فور سٹار عہدیداروں اور ایڈمرلز کی تعداد میں کم از کم 20 فئصد کمی کی جائے۔دسمبر کے شروع میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئی قومی سٹریٹجی کا اعلان کیا۔ جو امریکہ کی پہلی والی پالیسی سے واضح طور پر مختلف ہے۔اس پالیسی کے تحت امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو ‘امریکہ سب سے پہلے’ کے زمرے میں آتے ہیں۔