اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ انتخابی، آئینی، عدالتی و معاشی اصلاحات، خواتین، بچوں، معاشرے کے کمزور افراد، احتساب اور زمین کی اصلاحات کے حوالے سے قانون سازی کے لئے تیار ہیں، اپوزیشن کو اس میں ساتھ دینا چاہئے، سیاست کے نام پر قبضہ مافیا بننے والوں کے لئے رعایت نہیں مانگنی چاہیے، فارن فنڈنگ کے معاملہ پر سکروٹنی کمیٹی میں پی ٹی آئی نے 40 ہزار افراد کے نام اور تفصیلات فراہم کر دی ہیں، آئینی ترمیم اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم کو لٹکانے کی بجائے اپوزیشن اس پر جلد فیصلہ کرنے میں تعاون کرے۔ایوان بالا کے اجلاس میں مختلف تحاریک پر بحث سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے تفصیل سے اپوزیشن کی تقاریر سنیں، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تمام وزراءنے بھی اپنے ایجنڈے کے حوالے سے یہاں موجودگی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے نظام میں نقائص ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ انسان کا بنایا ہوا قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ احتساب، معیشت اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، دنیا کی کوئی جمہوریت ایسی نہیں جہاں احتساب کا نظام نہ ہو، جہاں پبلک فنڈز اور عوامی ٹیکسوں کے پیسے اکٹھے ہوں اور کوئی اس پر نظر رکھنے والا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے احتساب کے نظام کی ضرورت ہے جس سے ملک کے پیسے چوری نہ ہو، رشوت آرڈر آف دی ڈے نہ ہو، سڑک اگر دس کروڑ کی ہے تو وہ دس کروڑ اسی پر خرچ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے کے ارکان کے انتخاب کیلئے ایک میکنزم بنایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر اور لیڈر آف دی ہائوس اس ادارے کے ارکان کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں الیکشن کمیشن کے چیئرمین کی تقرری ہوئی، سلطان سکندر راجہ کے نام پر اتفاق ہوا، ان کے آتے ہی ان کے دفتر کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ احتساب کا ایسا نظام ہو جو شفاف اور سہل ہو، کیسوں کے فیصلے آسانی سے ہوں، کوئی کیسز کو لٹکا نہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ دو بل ایوان میں آ رہے ہیں ایک آئینی ترمیم اور دوسرا الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل ہے۔ اس کو بغیر کسی تاخیر کے منظور کیا جانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ ثبوت پیش کریں۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہمیں بھی کوئی ایسا اصول بنانا ہوگا جس میں الیکشن کے نتائج کو قبول کیا جا سکے۔ براڈ شیٹ کے حوالے سے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کی تجویز ہے کہ یہ معاملہ کمیٹی آف دی ہول میں زیر غور لانا چاہئے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ براڈ شیٹ جنرل (ر) مشرف کے دور سے آگے آئی ہے، وہ سارے لوگ جن کے اس میں نام شامل ہیں، جن کی جائیدادوں کا اس میں ذکر ہے ان سب کو بلائیں، انہیں سنا جائے، ایک طرف یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ محل، یہ دولت اور رہائش گاہ ان کی ہے ہی نہیں اور دوسری جانب وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں لندن کی عدالت نے فیصلہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے کیس پر فارن فنڈنگ کی سکروٹنی کمیٹی کے پاس کارروائی چل رہی ہے، ہم حکومتی جماعت ہیں، ہم نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ پی ٹی آئی سے تاریخ میں پہلی مرتبہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے پوچھا گیا، ہم نے چالیس ہزار لوگوں کی فہرست دی، سورس بھی بتائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 300 کے قریب سیاسی جماعتیں ہیں، جو بھی سیاسی جماعت رجسٹر ہو اس سے یہ ضرور پوچھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابی، آئینی، عدالتی و معاشی اصلاحات، خواتین، بچوں، معاشرے کے کمزور افراد، احتساب اور زمین کی اصلاحات کے حوالے سے قانون سازی کے لئے تیار ہیں۔