لندن ۔18دسمبر (اے پی پی):انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے پانچ روزہ ہڑتال کا آغاز کردیا۔العربیہ کے مطا بق یہ ہڑتال ڈاکٹروں کو ملنے والی کم تنخواہوں اور حالات کار کے اچھا نہ ہونے کے خلاف کی جا رہی ہے۔ڈاکٹروں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کے رویے کی وجہ سے مسلسل کئی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں میں رہائشی جونیئر ڈاکٹروں کی طرف سے …
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے پانچ روزہ ہڑتال کا آغاز

مزید خبریں
لندن ۔18دسمبر (اے پی پی):انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے پانچ روزہ ہڑتال کا آغاز کردیا۔العربیہ کے مطا بق یہ ہڑتال ڈاکٹروں کو ملنے والی کم تنخواہوں اور حالات کار کے اچھا نہ ہونے کے خلاف کی جا رہی ہے۔ڈاکٹروں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کے رویے کی وجہ سے مسلسل کئی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتالوں میں رہائشی جونیئر ڈاکٹروں کی طرف سے واک آؤٹ کے نام سے احتجاج کا یہ سلسلہ اب تک کی احتجاجی سیریز کا تازہ ترین واقعہ ہے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو ملنے والی موجودہ تنخواہوں میں وہ مزید کوئی اضافہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ اس طرح ہڑتالوں کا اعلان کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے اور خود کو خطرات سے دوچار کرنے والی بات ہے۔صحت سے متعلق سہولتیں پہلے ہی بہت کم ہیں۔ جبکہ اس ہڑتال سے ہیلتھ کیئر سروسز پر مزید دباؤ آئے گا۔انگلینڈ کے صحت سے متعلق ادارے ‘نیشنل ہیلتھ سروس نے پچھلے ہفتے انتباہ کیا تھا کہ انگلینڈ کے ہسپتال بدترین صورتحال سے گزر رہے ہیں۔انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے میڈیکل ڈائریکٹر نے کہا کہ طبی عملہ اسی طرح اپنی ذمہ داریوں پر آئے گا جس طرح کے ہمیشہ آتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے بہت سارے مریضوں کو ہڑتالوں کی وجہ سے تکلیف سے گزرنا پڑا ہے۔برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن ‘بی ایم اے’ کے جیک فلیچر نے کہا ہڑتال کی وجہ دو ایشوز خاص طور پر بنے ہیں۔ ایک روزگار کا بحران کہ کوالیفائڈ ڈاکٹر بھی روزگار کے وہ مواقع اور مناسب تنخواہ پانے سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا ہمیں اپنے ملک میں ڈاکٹرز کمیونٹی کی قدر و منزلت میں اضافہ کرنا ہوگا۔








