اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):وزارت توانائی شفافیت کے فروغ کے لئے بحث اور مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے تاہم اپٹما کے بعض دعوے حقائق پر مبنی نہیں اور یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ توانائی کے مستقبل کی منصوبہ بندی درست انداز میں نہیں کی جا رہی۔ پیر کو جاری بیان میں ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ آئی جی سی ای پی 2025 تا 2035 پاکستان کے …
اپٹما کے آئی جی سی ای پی سے متعلق مؤقف حقائق سے عاری اور ناقص ہے، ترجمان پاور ڈویژن

مزید خبریں
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):وزارت توانائی شفافیت کے فروغ کے لئے بحث اور مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے تاہم اپٹما کے بعض دعوے حقائق پر مبنی نہیں اور یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ توانائی کے مستقبل کی منصوبہ بندی درست انداز میں نہیں کی جا رہی۔ پیر کو جاری بیان میں ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ آئی جی سی ای پی 2025 تا 2035 پاکستان کے توانائی شعبے کی منصوبہ بندی میں ایک نمایاں تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے جس کا محور سستی بجلی، شفافیت اور طویل المدتی پائیداری ہے۔
پچھلے منصوبوں کے مقابلے میں موجودہ نظرِ ثانی شدہ منصوبہ تقریباً 7,000 میگاواٹ کے مجوزہ منصوبے کم کرکے اندازاً 17 ارب ڈالر کی بچت یقینی بناتا ہےجس کے نتیجے میں مستقبل میں فی یونٹ (کلو واٹ آور) لاگت میں 4.96 روپے کے اضافہ کو روکنا ممکن ہو گا۔ مزید برآں نئے منصوبوں کا انتخاب کم ترین لاگت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اس منصوبے کا بنیادی مقصد عوام کو قابلِ اعتماد اور کم لاگت بجلی فراہم کرنا ہے۔
ترجمان نے طلب کے تخمینے پر کی جانے والی تنقید کے حوالے سے کہا کہ طلب کا تخمینہ لگانے کا طریقہ کار وقت کی کسوٹی پر پرکھا ہوا ہے اور اسے بین الاقوامی ماہرین کی توثیق حاصل ہے۔ تخمینہ میں معیشت کی شرح نمو اور بجلی کی قیمت کو بنیادی عوامل کے طور پر شامل کیا گیا ہے کیونکہ یہی عوامل صارفین کی طلب اور معاشی سرگرمی کو بہتر طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس آبادی کی شرح نمو کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔
مزید یہ کہ متعدد منظرنامہ بنا کر اعداد و شمار کو جانچا گیا تاکہ غیر معتبر نتائج کو رد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طلب کے تخمینے کی تصدیق ایک اور تخمینے کے ساتھ تقابل کے ذریعے بھی کی جاتی ہے جو بوٹم اپ اپروچ کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ گرڈ کوڈ 2023 کے مطابق ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی اپنے فیڈر لیول کے ڈیٹا اور گھریلو صارفین، صنعتوں اور دیگر شعبوں کی متوقع طلب کی بنیاد پر بوٹم اپ فورکاسٹ تیار کرتی ہے۔ اس تخمینہ میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز، کیپٹو جنریشن، توانائی کی بچت کے پروگرامز اور دیگر ابھرتے ہوئے رحجانات کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
سسٹم آپریٹر ان تمام ڈسکوز کے اعداد و شمار کو سسٹم لیول پر یکجا کرتا ہے اور انہیں ریگریشن پر مبنی عالمی تخمینے کے ساتھ موازنہ کرتا ہے۔ گرڈ کوڈ کی ہدایات کے مطابق ان دونوں تخمینوں کے نتائج ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب اور قابلِ قبول حد کے اندر رہتے ہیں۔ ترجمان پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ تقسیم شدہ شمسی توانائی اور متبادل ذرائع کے اثرات کو موجودہ آئی جی سی ای پی میں باقاعدہ شامل کیا گیا ہے، اس لئے اپٹما کی یہ تنقید بھی درست نہیں۔ آئی جی سی ای پی 2025 تا 2035 میں مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو نکال کر کے مقامی وسائل جیسے ہائیڈل، سولر، ونڈ اور نیوکلیئر پر انحصار بڑھایا گیا ہے تاکہ درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی پر انحصار کم ہو اور زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ کم لاگت کے اصول سے ہٹ کر شامل خصوصی نوعیت کے منصوبوں میں، ان کے اضافی اخراجات اسپانسر کرنے والے ادارے کو برداشت کرنا ہوں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کیپیسٹی کاسٹ میں اضافہ کے حوالے سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں توانائی کے تحفظ اور کم لاگت کے اہداف کے لئے نیوکلئیر اور مقامی کوئلہ کے منصو بہ لگائے ہیں۔ اگرچہ ان کے فکسڈ اخراجات زیادہ ہیں لیکن بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم ہے، جس سے مجموعی طور پر صارفین کو سستی بجلی میسر آتی ہے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوتا ہے۔
مستقبل میں قابلِ تجدید توانائی کے اضافہ اور پرانے تھرمل پلانٹس کے خاتمے سے کیپیسٹی پیمنٹس کی شرح بھی معتدل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر اجاگر کرنا بھی ضروری ہے کہ بجلی کی منصوبہ بندی صرف موجودہ طلب کو دیکھ کر نہیں کی جا سکتی۔ آئی جی سی ای پی کو آئندہ 10 سے 20 برسوں کا منظرنامہ سامنے رکھنا ہوتا ہے، جس میں شہروں کی توسیع، صنعت کی ترقی، برقی ٹرانسپورٹ، کولنگ کی ضروریات اور نئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ گرڈ کوڈ طلب کے اندازوں کے لیے شفاف، مشاورت پر مبنی اور شواہد پر قائم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت توانائی اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ مستقبل کی بجلی کی منصوبہ بندی حقیقت پسندانہ، قابلِ بھروسہ اور کم لاگت پر مبنی ہو تاکہ پاکستان کی طویل المدتی ترقی اور توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







