لاہور۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہمارے دور کی معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کا تسلسل جاری رہتا تو پاکستان آج ایشیئن ٹائیگر بن چکا ہوتا،جو کہتے نہیں تھکتے تھے کہ سبز جھنڈے،سبز پاسپورٹ کی عزت کرائیں گے،نیا پاکستان بنائیں گے،تبدیلی آئے گی وہ سب کچھ ایک جھوٹا خواب اور سبز باغ تھا،ایمان کے پہلے درجے کے مطابق آگے بڑھ کر ہاتھ روکتے تو شاید ملک کا یہ حشر نہ ہوتا لیکن ہم نے دل میں برا کہنے پر اکتفا کیا،ملک آج جس نہج پر پہنچ گیا ہے
اس میں ہندوستان نے ہمارے خلاف کچھ نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑے مارے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں فیصل آباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ٹکٹ کے امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف،چیف آرگنائزر مریم نواز،اسحاق ڈار،احسن اقبال ،حمزہ شہباز،رانا ثنا اللہ خان،خواجہ آصف،مریم اورنگزیب سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ خوشی کا مقام ہے کہ آپ لوگوں سے طویل وقفے کے بعد ملاقات ہو رہی ہے،اس عرصے میں کافی نشیب و فراز آئے،کچھ لوگوں نے بہت فاصلے پیدا کرا دئیے،بہر حال زندگی میں ایسا ہوتا ہے جسے برداشت کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی 2017 میں ملک اتنا اچھا چل رہا تھا اور سارے کام بہت اچھے ہو رہے تھے، لگ رہا تھا کہ پاکستان کی تعمیر نو ہو رہی ہے
،آپ میں سے بہت سے لوگ 1985 سے میرے ساتھ ہیں جب میں پنجاب کا وزیر اعلی بنا تھا،1990 میں اللہ تعالی کے فضل سے وزیر اعظم بنا،ہم نے اس وقت معیشت کو درست کرنے کے لئے اصلاحاتی پالیسیاں بنائیں اور ان کے دور رس نتائج نکلے،ہمارے دور میں انڈسٹریلائزیشن ہوئی، ہماری گروتھ بڑھتی چلی گئی،ہم نے پہلی موٹر وے کی بنیاد رکھی لیکن ڈھائی سال کے بعد جب ملک ہر لحاظ سے بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا تو ہماری حکومت ختم کر دی گئی،سب جانتے ہیں اگر وہ تسلسل جاری رہتا تو آج پاکستان کہیں نہ کہیں اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکا ہوتا،اس بات کو چالیس سال ہو گئے ہیں،اگر ہماری پالیسیوں کا تسلسل جاری رہتا تو ہم اللہ کے فضل و کرم سے یقینا ایشیئن ٹائیگر بن چکے ہوتے۔
نواز شریف نے کہا کہ آج وہ ممالک جو ہم سے کہیں پیچھے تھے آج وہ ہم سے کہیں آگے نکل گئے ہیں،زیادہ دور نہ جائیں اپنے خطے میں اردگرد دیکھیں،جن کی کرنسی ہم سے کمزور تھی ،گروتھ کی شرح کم تھی،جن ممالک کے اندر غربت اور بیروزگاری زیادہ تھی،جہاں ہر لحاظ سے تنگدستی تھی،ہم ان سے ہر لحاظ سے آگے تھے لیکن آج ہم اتنے ہی پیچھے ہیں اور وہ ہم سے اتنے ہی آگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں جب ہم برسر اقتدار آئے تو لوڈ شیڈنگ کا کیا حال تھا ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر سب سے زیادہ احتجاج فیصل آباد میں ہوتے رہے،آپ لوگوں نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ دیکھی ہے،ہم نے اس کو ختم کیا،مجھے اس وقت میری پارٹی کے رہنمائوں نے کہا تھا کہ انتخابات آرہے ہیں یہ کہہ دیں ہم چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے ،کسی نے کہا ایک سال کا کہہ دیں اس سے زیادہ کا نہ کہیں ووٹ نہیں ملے گا لیکن میں نے کہا وہی بات کہوں گا جوبات سچ اور حقیقت ہے،ہم ایک سال ،دو سال یا تین سال میں لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتے،ہم یہ کہہ سکتے ہیں ہم اپنے اس دور میں لوڈ شیڈنگ کو ختم کر دیں گے،
مجھے کہا گیا کہ اس طرح ووٹ نہیں ملے جس پر میں نے واضح کہا کہ پھر جھوٹ تو نہیں بولنا،جھوٹ بول کر ووٹ لینا ہے تو پھر کیا لیا،میں نے اعلان کیا ہم اپنے دور میں لوڈ شیڈنگ کو ختم کریں گے،ہماری مدت 2018 تک تھی لیکن ہم نے 2016 کے آخر میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا،ہم نے جو کہا وہ کر کے دکھایا،اس کے بعد دہشتگردی کو ختم کیا، ڈالر کی مجال ہے جو چار سال ادھر ادھر ہلا ہو ،ڈالر کو 104 روپے پر رکھا،اس پر اسحاق ڈار کو بھی شاباش ملنی چاہیے
،ہمارے دور میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر تاریخ میں سب سے زیادہ تھے اور جب ہم آئے تھے تو ملک ڈیفالٹ پر تھا،ہم شرح نمو کو 6.2 پر لے کر گئے،2012-13 میں پالیسی ریٹ کہاں پر تھا،ہم اسے 2017 میں سوا 5 فیصد پر لے کر آئے،پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی،لاکھوں لوگوں کو روزگار مل رہاتھا،ہماری عوام غربت کی لکیر سے اوپر آ رہے تھے،ہم نے خود آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا۔ اس وقت عالمی اداروں کی جانب سے کہا گیا کہ اگر پاکستان اسی طرح ترقی کرتا رہا تو اگلے چند سال میں یہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا لیکن پھر وہ دن کہاں گئے، دہشتگردی بھی واپس آ گئی،ڈالر 104سے 300 روپے پر چلا گیا،جیسے پی ٹی آئی حکومت آئی ڈالر کو پر لگ گئے،روپیہ کی قدر کم ہو گئی،
شرح نمو ختم ہو کر رہ گئی ،آئی ایم ایف اپنی شرائط پر آیا،آج پاکستان کا جو حال ہے وہ آپ نے اچھی طرح دیکھا،مہنگائی آسمان کو چھونے لگی،ہمارے دور میں چینی،گھی،دالیں،آٹا،چاول سستے تھے ،ان اعدادو شمار کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا،ہمارے دور میں پاکستان کی عزت وقار بڑ رھ رہا تھا۔جو کہتے نہیں تھکتے تھے سبز جھنڈے،سبز پاسپورٹ کی عزت کرائیں گے،نیا پاکستان بنائیں گے تبدیلی آئے گی وہ سب کچھ ایک جھوٹا خواب تھا سبز باغ تھا۔نواز شریف نے کہا کہ افسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم یہ سب دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں،کئی ان چیزوں کو برداشت کر کے جھوٹے کیسز میں جیلوں میں جاتے ہیں،ہمارے کئی لوگ صرف دل میں افسوس کرتے ہیں۔ایمان کا سب سے افضل درجہ یہ ہے کہ برائی کو دیکھو تو آگے بڑھ کر ہاتھ سے روکو،اس سے کم درجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو زبان سے برا کہو اور اس کے بعد آخری درجہ یہ ہے کہ برائی کو دل میں ہی برا کہو،ہم نے آخری درجے کو چنا،اگر آگے بڑھ کر اس کو ہاتھ سے روکتے تو شاید ملک کا یہ حشر نہ ہوتا،ہم 70،75سال سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
پھر جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ملک کی یہ صورتحال بن چکی ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں اس کی یہی وجوہات ہیں جن کا ذکر کیا جارہا ہے ،پارلیمنٹ ٹوٹتی ہے تو کہتے ہیں بالکل ٹھیک ہوا ہے،وزیر اعظم کو جیل میں ڈالتے ہیں تو کہتے ہیں بالکل ٹھیک ہوا،وزیر اعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا جاتا ہے تو کہتے ہیں بالکل صحیح کیا ہے،یہ ہمارے خلاف ہندوستان سمیت کسی اور نے نہیں کیا بلکہ ہم نے خود کیا ہے،اپنے پائوں پر خود کلہاڑا مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سی پیک لے کر آئے،لوڈ شیڈنگ ختم کی ،دہشتگردی کا خاتمہ کر سکتے ہیں،لوگوں کے روزگار کا ہم نے بندوبست کیا،معیشت کو بہتر طریقے سے چلایا، ہم نے قوم کی اخلاقی تربیت کی،قوم کو بے راہ روی کی طرف نہیں لے کر گئے۔
پھر سب نے دیکھا کہ ایک شخص نے قوم کو بد تمیزی کا کلچر سکھایا،بد تہذیبی ،بدمعاشی،غنڈہ گردی،دھونس دھاندلی،یوٹرن اور جھوٹ سکھایا،اس لیڈر نے تبدیلی کے نام پر خود یہ سب کچھ کرکے دکھایا۔یہ سب ہو رہا تھا اور اسے ریاست مدینہ کا نام دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ عمرے پر جاتے ہیں تو مسجد نبوی ۖ میں نعرے بازی شروع ہو جاتی ہے،اللہ رسول کے گھر میں یہ نیا پاکستان نیا کلچر نئی تہذیب تھا، کیا قوموں کی تعمیر ایسے ہوتی ہے،یہ تو اچھی بھلی قوم کو تباہی و بربادی کی طرف جانے والی بات ہے اور کئی دفعہ لوگ اندھی تقلید شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کرے ہم تاریخ سے سبق سیکھیں،اپنی اصلاح کریں اور آنے والے وقت میں اچھے فیصلے کر سکیں۔انہوں نے ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹکٹ حاصل کرنے کے ساتھ یہ نیت ہونی چاہیے کہ اگر ٹکٹ ملا ،اگر اللہ تعالی نے کامیابی عطا فرمائی تو ہم قوم کو اس گرداب سے ضرورنکالیں گے،ہم اپنے عوام کی خدمت کرکے ملک کی تعمیر نو کریں گے،یہاں سے مہنگائی اورغربت کا خاتمہ کریں گے،غریب کی خدمت کریں گے پھر برکت پڑے گی اور یہ ملک ان مشکلوں سے باہر نکلے گا۔دل میں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آئیں تو اسمبلی کے اندر بیٹھنا ہے ،اقتدار کے مزے لوٹنے ہیں،کاروں میں بیٹھنا ہے اورمعاملات کو اپنی خواہش کے مطابق چلانا ہے اگر یہ مطمع نظر ہے تو پھر برکت نہیں ہو گی۔
اگر نیت اس ملک کی خدمت کی ہے تو پھر اللہ تعالی آپ کو کامیابی عطا فرمائے گا۔نیت کے ساتھ عہد بھی کرنا ہے اور ایک ایک لمحہ اس عہد کو پورا کر نے میں گزرنا چاہیے۔نواز شریف نے کہا کہ کچھ تکلیف دہ باتیں بھی ہیں لیکن کچھ امید افزا بھی ہیں،ہم چاہیں تو ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں اور اللہ تعالی کی مدد تبھی آئے گی جب ہم اپنے دل اور نیتوں کو صاف کریں گے۔