عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ ایبولا کے مہلک ترین پھیلاؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ٹیڈروس ایڈ ھانوم گیبریئسس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار کی وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران سامنے آنے والی وبا …
ایبولا وائرس موجودہ رفتار سے پھیلنے کی صورت میں یہ ایبولا کی تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہو سکتی ہے، عالمی ادارۂ صحت

مزید خبریں
جینوا ۔13اگست (اے پی پی):عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ ایبولا کے مہلک ترین پھیلاؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ٹیڈروس ایڈ ھانوم گیبریئسس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار کی وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران سامنے آنے والی وبا کو پیچھے چھوڑ دے گی جن کے نتیجے میں کم از کم 11 ہزار اموات ہوئی تھیں۔
کانگو میں اس سال کی ایبولا وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا اور اب تک اس کے کم از کم 4,300 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2,000 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کوشش ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو روکا جا سکے۔
تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وائرس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا بلکہ یہ محض اس کی منتقلی کو قابو میں لائے جانے کی جانب اشارہ ہو گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وبا کا باضابطہ اعلان مئی میں کیا گیا تھا، لیکن اس کا آغاز اس سے کم از کم تین ماہ پہلے ہو چکا تھا۔ایبولا وبا کے مرکز کے قریب واقع شہر بونیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا تھا کہ ہم وائرس بارے معلومات جمع کر رہے ہیں لیکن وائرس ہم سے آگے ہے۔
انھوں نے ایسی تحقیق کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس فروری میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور ابتدا میں اسے غلطی سے ملیریا یا ٹائفائیڈ قرار دیا گیا تھا۔2026 کی یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب بنڈی بوگیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے، جو اس سے پہلے 2007 اور 2012 میں وبا کے پھیلاؤ کا سبب بنی تھی۔وائرس کی اس قسم کے لیے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم شدہ دوا دستیاب ہے۔








