22.7 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومزرعی خبریںایران اور پاکستان کے تجارتی روابط سے خطہ میں خوشحالی آئے گی،...

ایران اور پاکستان کے تجارتی روابط سے خطہ میں خوشحالی آئے گی، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر کی ایرانی وزیررستم قاسمی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

- Advertisement -

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے تجارتی روابط سے خطہ میں خوشحالی آئے گی۔ جمعرات کو ایرانی وزیر روڈ اربن ڈویلپمنٹ رستم قاسمی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید نوید قمر نے کہا کہ ایران کے ساتھ روایتی تجارت کی راہ ہموار کرنے پر کام کررہے ہیں ،

فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے ٹیرف میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی، بارڈر پر گڈ زٹریڈ سے متعلق اکنامک زونز بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد سے بات چیت میں پاک ایران تجارت کو فروغ دینے میں پیش رفت کا جائزہ لیا ہے ، دونوں ممالک کے تجارتی روابط خطے میں خوشحالی لائیں گے ۔

- Advertisement -

ایرانی وزیر رستم قاسمی نے کہا کہ پاکستان کی شاندار میزبانی پر مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں جے ای سی میں 6 سال وقفہ ہونے سے تجارتی دوریاں بڑھ گئیں، بارڈر مارکیٹ کے رجحان کو فروغ دینا ہوگا ، بارڈر مارکیٹ سے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے رابط بھی بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی اشیاء کی فہرست پر سنجیدگی سے کام کریں اور باہمی آمادگی سے معاملات آگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تجارتی تعلقات صرف نشست تک محدود نہیں ہوں گے ہم عملی اقدام کرنے کو ترجیح دیں گے۔

اس سے قبل پاک ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 21 ویں اجلاس میں دونوں برادرممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے،اس مقصدکیلئے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو دورکرنے اور آئندہ چھ ماہ کے اندر آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ۔ دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا 21 واں اجلاس پاکستان کی میزبانی میں 16 سے 18 اگست 2022 تک منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے ایرانی وزیر برائے شاہرات وشہری ترقی رستم قاسمی سے ملاقات میں کہاکہ پاکستان اور ایران کے درمیان کثیر جہتی تعلقات ہیں۔ پاکستان پڑوسی ملک ایران کے ساتھ اپنے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کی آزمائش پرپورا اترے ہیں ۔

دونوں ممالک کے درمیان تمام دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر باہمی افہام و تفہیم اور خیالات کی ہم آہنگی ہے۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن محمد حمیر کریم اور وزارت اقتصادی امور ڈویژن کے دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت کے مطابق نہیں ہے تاہم پاکستان دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ڈالر کی سطح تک بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے فریقین نے آئندہ چھ ماہ کے اندر آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اس پر دستخط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ فریقین نے کوئٹہ اور زاہدان چیمبرز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق بارٹر ٹریڈ کو فعال بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

فریقین نے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی اتفاق کیا۔پاک ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے موقع پر فریقین نے چیمبرز آف کامرس کے مابین روابط کوفروغ دینےکا فیصلہ بھی کیا۔ اجلاس کے موقع پربتایاگیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنانے کے لیے گوادر کے قریب گبد پر ایک اضافی سرحدی کراسنگ پوائنٹ – ریمدان کو پاکستان نے حال ہی میں فعال کردیا ہے۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کے معاہدے کا مقصد ترکیہ سے ایران کے راستے پاکستان تک تجارتی آمدورفت کو آسان بنانا ہے، اس سے ایرانی اشیاء اور مسافر و سیاح پاکستان کے راستے چین تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں بتایاگیا کہ جے ای سی کے 21ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے سے پاکستان کو ترکیہ کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں اور یورپ تک رسائی کے فوائد حاصل ہوں گے۔وزیرتجارت سید نوید قمر نے کہا کہ کوئٹہ تفتان روڈ ٹریفک کے قابل ہے تاہم سڑک کی مزید بہتری کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں اور زائرین کی سہولت کے لیے ویزے کی شرائط کو آسان بنانے کی ضرورت پربھی زور دیا۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=322838

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں