اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):چائنا انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں گلوبل گورننس اینڈ انٹرنیشنل آرگنائزیشن اسٹڈیز کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر یوان شا نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کو جغرافیہ اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم قرار دیا اور کہا کہ یہ تنظیم علاقائی اور عالمی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر ابھری ہے، تیانجن میں منعقد ہونے والا سربراہ اجلاس علاقائی اور بین الاقوامی اجتماعی ترقی و خوشحالی کے لئے اہمیت کا حامل ہوگا۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہ اجلاس، جو چین کی صدارتی میزبانی میں تنظیم کے وسیع امکانات کو اجاگر کرنے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے کے وژن کے تحت منعقد ہونے جارہا ہے۔
اے پی پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے چائنا انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں گلوبل گورننس اینڈ انٹرنیشنل آرگنائزیشن اسٹڈیز کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر یوان شا نے ایس سی او کے ارتقاء پذیر کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح کثیر الجہتی جامع اور عملی نکتہ نظر کے ذریعے ٹھوس فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ یوان شا سی جی ٹی این کے موجودہ امور کے لیے ایک خصوصی مبصر بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ ایس سی او نہ صرف تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے بلکہ یوریشیائی خطے اور اس سے باہر ملکوں کے استحکام، خوشحالی اور ترقی کا ایک مشترکہ فورم بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2001 میں قائم ہونے والی تنظیم نے علاقائی سلامتی کو بہتر بنانے کے مشن کے ساتھ، معاشی تعاون کو شامل کرنے کے لیے اپنے ایجنڈے میں نمایاں طور پر اضافہ کیا ہے، جو استحکام اور خوشحالی کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ آج یہ تنظیم جغرافیہ اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے، جس میں وسیع منڈیاں، بھرپور وسائل اور ترقی کے روشن امکانات ہیں۔ یہ علاقائی اور عالمی ترقی کا ایک اہم محرک کے طور پر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او بزنس کونسل اور انٹر بینک کنسورشیم جیسے تجارتی اور سرمایہ کاری کے میکانزم کو کراس بارڈر تجارت اور مالیاتی تعاون کو بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2024ء میں، چین اور ایس سی او رکن ممالک، مبصر ممالک اور مکالمہ شراکت داروں کے درمیان تجارت کا حجم ریکارڈ 890 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو چین کی کل تجارت کا 14.4 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ روابط اور توانائی کے تحفظ کے ڈھانچہ جاتی منصوبوں، بشمول چین-وسط ایشیا-مغربی ایشیا اقتصادی راہداری اور چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے نے رکاوٹوں کو اور نقل و حمل کے اوقات کو کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین-وسط ایشیا گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کے ذریعے توانائی کے تعاون نے علاقائی استحکام کو مزید تقویت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سنگ میل میں، ایس سی او ارکان نے تجارتی راستوں کے ساتھ انفراسٹرکچر کے خلا کو دور کرنے کے لیے "سلک روڈ اسٹیشنز” کی تعمیر کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او نے علاقائی ترقی کی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کیا ہے، جس میں چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ساتھ قومی پروگراموں جیسے کہ قازقستان کا برائٹ روڈ انیشیٹو اور تاجکستان کی نیشنل ڈویلپمنٹ اسٹریٹیجی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سبز ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی نئی ترجیحات بن گئی ہیں۔ "2024ء کے آخر تک، ایس سی او ممالک میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 2.31 بلین کے وی تک پہنچ گئی ہے، جو کل عالمی صلاحیت کا تقریباً نصف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او گرین ڈویلپمنٹ فورم نے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل محاذ پر، چین اور ایس سی او ممالک کے درمیان کراس بارڈر ای کامرس میں 2024ء میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔ حال ہی میں اپنایا گیا ایکشن پلان برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن مصنوعی ذہانت، سمارٹ انفرا سٹرکچر اور ای کامرس میں تعاون کو مضبوط بنانے کی توقع ہے۔
انہوں نے پالیسی، انفراسٹرکچر، تجارت، مالیات اور عوام سے عوام کے تعلقات سمیت پانچ شعبوں میں ایس سی او کے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں رکن ممالک کو ان کی صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنے، باہمی اعتماد کو گہرا کرنے اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک با صلاحیت فریم ورک بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔