ایف اے او اور سندھ زرعی یونیورسٹی کا موسمیاتی تبدیلی و غذائی تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق

سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، پائیدار زرعی نظام کے فروغ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

حیدرآباد۔ 15 جون (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، پائیدار زرعی نظام کے فروغ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف اے او پاکستان کے نمائندے جیمز رابرٹ اوکوٹھ اور سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں زرعی تحقیق، نوجوانوں کی تربیت اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران سندھ زرعی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ایف اے او میں بامعاوضہ انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جس کا مقصد نوجوان زرعی ماہرین کو عملی تجربہ فراہم کرنا اور انہیں جدید زرعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ ایف اے او نے ہمیشہ سندھ زرعی یونیورسٹی کے تحقیقی اور تربیتی پروگراموں میں تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے زرعی شعبے پر اثرات کم کرنے، فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ایف اے او کے نمائندے جیمز رابرٹ اوکوٹھ نے سندھ زرعی یونیورسٹی کی زرعی تعلیم اور تحقیق میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی سندھ میں پائیدار غذائی نظام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مستقبل کے منصوبوں کے لیے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EOI) تیار کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر نے کہا کہ تحقیق اور تربیت کے ذریعے کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنے، فصلوں کی مزاحمت بڑھانے اور زرعی پیداوار میں بہتری لانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر کے اصولوں پر عمل درآمد سے زرعی شعبے کو مزید پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں