اسلام آباد ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پریس میں چھپنے والی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر جو تمبا کو مصنوعات کے لئے وضع کئے گئے الیکٹرانک مانیٹرنگ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے لائسنس اجراءکے لئے 5اگست کو چھپنے والے مطلوب ٹینڈر سے متعلقہ ہے کی پرزور تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خبر بے بنیا د ہے …
ایف بی آر کی تمباکو مصنوعات کے لئے وضع کئے گئے الیکٹرانک مانیٹرنگ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے لائسنس اجراءکے ٹینڈر سے متعلقہ خبر کی پرزور تردید

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پریس میں چھپنے والی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر جو تمبا کو مصنوعات کے لئے وضع کئے گئے الیکٹرانک مانیٹرنگ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے لائسنس اجراءکے لئے 5اگست کو چھپنے والے مطلوب ٹینڈر سے متعلقہ ہے کی پرزور تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خبر بے بنیا د ہے اور چئیر مین ایف بی آر پر لگائے گئے الزامات کا مقصد صرف لائسنسنگ جاری کرنے کے شفاف نظام کو ختم کروانا ہے تا کہ ٹیکس چوروں کو فائدہ ملے اور تمباکو صنعت کی غیر قانونی تجارت جاری رہے۔ بدھ کو یہاں جاری بیان کے مطابق یہ جھوٹی اور بے بنیا د خبر درج ذیل حقائق کی بناءپر رد کی جاتی ہے۔ لائسنس ٹینڈر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی سیکشن 40Cکے تحت اور سیلز ٹیکس قوانین2006کے تحت جاری ہوئے ہیں۔ ایس آر او2019/(1) 250کے تحت قانون میں ترامیم 26فروری 2019بعنوان ”اشیاءکی متعین کردہ الیکٹرانک مانیٹرنگ ٹریکنگ، ٹریسنگ اور لائیسینسنگ“کو کی گئیں۔ موجودہ چئیر مین ایف بی آر سید شبر زیدی نے 10مئی 2019ءکو ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی یعنی کہ لائسنسنگ قوانین دو ہزار انیس کے جاری ہونے کے ڈھائی ماہ بعد چئیرمین ایف بی آر تعینات ہوئے۔ ایک عالمی تجربہ یافتہ کنسلٹنٹ کو محض اس لئے تعینات کیا گیا کہ وہ لائسنسگ اجراءکے معاملہ میں اپنی آراءدے تاکہ پورے پراسیس کو شفاف بنایا جاسکے۔ اس سلسلے میں اشتہار قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں دیا گیا تا کہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔








