این سی ایس ڈبلیو پاکستان کے جدید ترین ملٹی چینل جینڈر بیسڈ وائلنس کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا آغاز منگل (کل) سے کرے گا

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ فعالیت کی عالمی مہم کو مناتے ہوئے(کل)منگل کو پاکستان کے جدید ترین ملٹی چینل جینڈر بیسڈ وائلنس کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے آغاز کا اعلان کرے گا۔ این سی ایس ڈبلیو سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اس سال کے موضوع ’’متحد! خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ فعالیت کی عالمی مہم کو مناتے ہوئے(کل)منگل کو پاکستان کے جدید ترین ملٹی چینل جینڈر بیسڈ وائلنس کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے آغاز کا اعلان کرے گا۔

این سی ایس ڈبلیو سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اس سال کے موضوع ’’متحد! خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لئے سرمایہ کاری کریں‘‘کے مطابق این سی ایس ڈبلیو ملک بھر میں خواتین اور بچیوں کے لئے بہتر، محفوظ اور سروائیور،سینٹرڈ رپورٹنگ راستوں کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے کئے جانے والے صنفی تشدد میں تشویشناک اضافے میں کمی لانے کے اپنے قومی عزم کو اُجاگر کر رہا ہے۔

پاکستان سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے اشتراک سے اور ڈیجیٹل خطرات بشمول ڈیپ فیکس، سائبر سٹاکنگ، بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسگی میں تیزی سے اضافے کے جواب میں این سی ایس ڈبلیو اپنے مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن آگاہی مہم کے سافٹ لانچ کے ساتھ خُدی ڈیجیٹل سیفٹی ویڈیو سیریز کا بھی اعلان کرے گا جس کا مقصد خواتین اور بچیوں کو ضروری آن لائن حفاظتی مہارتوں اور ڈیجیٹل مضبوطی کے ٹول فراہم کرنا ہے۔

ان اقدامات کی 16 روزہ فعالیت کے دوران شروعات این سی ایس ڈبلیو کے اس پختہ ارادے کی نشاندہی ہے کہ ہم خواتین اور بچیوں کے لئے محفوظ، حساس و خفیہ اور ملٹی چینل شکایتی سہولیات کو بڑھائیں اور فعال بنائیں۔مس انفارمیشن، ڈیپ فیکس اور ڈیجیٹل بدسلوکی کا مقابلہ کریں۔ملک بھر میں روک تھام اور بروقت ردِعمل کے نظام کو مضبوط کریں جبکہ آن لائن محفوظ شرکت کے لئے ڈیجیٹل خواندگی اور حفاظتی رویے فروغ دیں۔

این سی ایس ڈبلیو کا نیا شکایتی نظام خواتین کے لئے ایک سروائیورسینٹرڈ رپورٹنگ فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں آن لائن پورٹل، موبائل ایپ، واک اِن سینٹرز اور جلد آنے والی ہیلپ لائن شامل ہے تاکہ ملک کے ہر خطے اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

مزید خبریں