اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):ایوان بالا نے ملک کی ترقی وخوشحالی میں اقلیتوں کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار نے یہ قرارداد پیش کی۔
قررداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اقلیتوں نے ملک کی ترقی، خوشحالی اور اتحاد میں ناگزیر کردارادا کیا ہے اور ملک کو ثقافتی، سماجی اور معاشی اعتبار سے آراستہ کیا ہے۔ قررداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمدعلی جناح نے اپنے تاریخی خطاب میں 11 اگست 1947ء کو واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو، مذہب ، ذات یا عقیدے سے بالاتر ہو کر قانون کے تحت یکساں حقوق، آزادیاں اور تحفظ حاصل ہوں گے اور یہ امر ہماری اقلیتوں کے لئے پالیسی کی کلیدی بنیاد ہے۔
قررداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے جن میں مذہبی آزادی، قانون کے سامنے مساوات اور امتیاز کے خلاف تحفظ شامل ہیں۔پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے جن میں عالمی منشور برائے انسانی حقوق ( یو ڈی ایچ آر ) اور بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق ( آئی سی سی پی آر ) شامل ہیں جو اقلیتوں کے حقوق کی تصدیق کرتے ہیں۔قررداد میں کہا گیا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی یکجہتی اور شمولیت کوفروغ دینا قومی اتحاد اورخوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
قررداد میں کہا گیا ہے کہ اس امر کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اقلیتوں نے قومی دن برائے اقلیتوں پر ملک کی ترقی، خوشحالی اور اتحاد میں انمول خدمات سر انجام دی ہیں، لہذا اب اس ایوان کا عزم ہے کہ پاکستان کی اقلیتوں کو ان کی بے لوث حب الوطنی ، قربانیوں اور قومی ترقی میں نمایاں خدمات پر خراج تحسین پیش کیا جائے۔آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا جائے تا کہ اقلیتوں کی عزت، سلامتی اور شہری حیثیت کو یکساں طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
قررداد میں کہا گیا ہے کہ چیئر مین سینیٹ کے اس دور اندیش اقدام کی تعریف کی جائے کہ انہوں نے پاکستان کی سینیٹ میں اقلیتی کا کس قائم کیا جو قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی نمائندگی پرمشتمل ایک مشتر کہ پارلیمانی فورم ہوگا تا کہ اقلیتوں کے مسائل کو اجتماعی طور پر حل کیا جا سکے اور ان کے حقوق کو فروغ دیا جا سکے۔قررداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ آئینی دفعات اور اقلیتوں کے لیے قانونی تحفظات کو موثر طریقے سے نافذ کرے۔
حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ عوامی آگاہی مہمات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پروگرام شروع کرے جو معاشرے میں رواداری اور شمولیت کو فروغ دیں۔قررداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تعلیمی نصاب میں قائد اعظم کے 11 اگست کے خطاب اور اقلیتوں کے حقوق کو شامل کیا جائے تا کہ مساوات اور تکثیری اقدار کو پروان چڑھایا جا سکے۔اس ایوان کا پختہ عزم ہے کہ وہ انصاف، مساوات اور شمولیت کے اصولوں کو قائد اعظم کے ویژن اور آئین کی ضمانت کے مطابق برقرار رکھے گا تا کہ پاکستان تنوع میں اتحاد کی روشن مثال بنتار ہے۔