24.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںای۔پاکستان اقدام ،آئی سی ٹی کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے...

ای۔پاکستان اقدام ،آئی سی ٹی کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر جامع اقدامات

- Advertisement -

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):اُڑان پاکستان کے تحت ای۔پاکستان اقدام ،انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد پاکستان کو ایک جدید، خود کفیل اور علاقائی ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔سالانہ پلان 26-2025کے تحت پاکستان کا آئی سی ٹی شعبہ اقتصادی تبدیلی کے عمل میں صفِ اول پر ہےجسے نوجوان، ٹیکنالوجی سے آشنا آبادی اور حکومت کے اسٹریٹجک اقدامات، خاص طور پر’’اُڑان پاکستان‘‘کے تحت تقویت دے رہے ہیں۔

یہ اقدامات اقوام متحدہ کے ایس ڈی جی 2030 ایجنڈا سے ہم آہنگ ہیں۔ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور آئی ٹی کے فارغ التحصیل نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی )، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے شعبوں میں جدید خیالات اور نئی کمپنیوں کے قیام کو فروغ دے رہا ہے۔براڈبینڈ کی توسیع، فائیو جی سروسز کے اجراء اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی جیسے پاک سیٹ MM-1 اور اسپیس وژن 2040 جیسے منصوبے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فاصلے کم کر کے، ڈیجیٹل رسائی، ای گورننس، صحت، اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

- Advertisement -

مالی سال 25-2024میں آئی سی ٹی شعبے کے لیے 48,046 ملین روپے مختص کیے گئے تاکہ موبائل اور براڈبینڈ سہولیات، خاص طور پر محروم علاقوں میں، مزید بہتر کی جا سکیں۔مالی سال 26-2025کے لیے ترجیحات میں اسٹارٹ اپس کو وسعت دینا، فری لانسنگ کے مواقع بڑھانا، ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانا، اور مقامی سطح پر آئی سی ٹی مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینا شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم کے آئی ٹی سٹارٹ اپس اینڈ وینچر کیپیٹل فنڈ، ای-روزگار پروگرام، اور سیمی کنڈکٹر ورک فورس ڈیولپمنٹ جیسے اہم اقدامات پاکستان کو علاقائی آئی سی ٹی مرکز بنانے اور ہمہ گیر ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔اڑان پاکستان کے تحت نوجوانوں کی ٹیکنالوجی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس میں فری لانسنگ، پروگرامنگ، اور مصنوعی ذہانت کی تربیت شامل ہے۔

ای-روزگار پروگرام جیسے منصوبوں کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو آن لائن کمائی کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ براڈبینڈ اور 5G کی سہولیات کو ملک بھر میں، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک توسیع دی جا رہی ہے۔ پاک سیٹ MM-1 اور اسپیس وژن 2040 کے تحت سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو شفاف، فوری، اور مؤثر سہولیات میسر آئیں۔ آلات کی لوکل مینوفیکچرنگ کے فروغ سے نہ صرف درآمدات پر انحصار کم ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔یہ تمام اقدامات نہ صرف ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں بلکہ ایس ڈی جی 2030 اہداف کے حصول اور معاشی ترقی کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہو رہے ہیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں