اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ بروقت فیصلے اوران پرنظام الاوقات کے مطابق عملدرآمد بہترمینجمنٹ کی خوبیاں ہیں، کلیدی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری سے کلی معیشت کے استحکام کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پربیرونی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے،موسمیاتی تبدیلیاں اوربڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کیلئے وجودی خطرات ہیں، نجی شعبہ کوقائدانہ اورحکومت کوبہترماحول کی فراہمی کے حوالہ سے کرداراداکرنا چاہئے۔یہ بات انہوں نے بدھ کویہاں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان کے زیراہتمام پبلک فنانشل مینجمنٹ کے موضوع پرمنعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیرخزانہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ کوئی ادارہ ہو یاملک بروقت فیصلے اوران پر نظام الاوقات کے مطابق عملدرآمد بہتر مینجمنٹ کی خوبیاں ہیں، بہترین نظم ونسق میں پبلک سرونٹس کاکردارکلیدی اہمیت کاحامل ہوتا ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، طویل عرصہ کے بعد تین کلیدی ریٹنگ ایجنسیوں فچ،ایس اینڈپی اوراب موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہترکی ہے،اس اقدام سے گزشتہ چندبرسوں میں ملک کی کلی معیشت کے استحکام کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پربیرونی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ گیلپ سروے سمیت حالیہ سروے رپورٹوں سے بھی واضح ہواہے کہ معیشت کی بہتری کے حوالہ سے ہماری سمت درست ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ معیشت کے استحکام کے بعدتیزی سے ترقی ونموکیلئے یہ ایک بہترین اورمناسب وقت ہے،ہمیں ماضی میں معیشت کے اتارچڑھائو کے چکرسے اب نکلنا ہوگا، ایل سیز کے حوالہ سے بہتری آئی ہے، سرمایہ کاروں کوان کامنافع مل رہاہے، ترسیلات میں بہتری آرہی ہے ،ان اقدامات سے بہتری کی عکاسی ہو رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ وہ آئندہ ہفتہ وزیراعظم کے ہمراہ چین کے دورے پرجارہے ہیں اوراس دورے میں بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کے دوبارہ داخلہ کے حوالہ سے بات چیت اور مذاکرات کاسلسلہ دوبارہ سے شروع ہوگا، پاکستان پانڈابانڈز کے زریعہ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں داخلہ کاخواہاں ہے،ہمیں امیدہے کہ اسی سال کے دوران پانڈابانڈز کاافتتاح ہوگا،ہم دیگربین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں سے بھی استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔
وزیرخزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں اوربڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کیلئے وجودی خطرات قراردیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کوموسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کاسامنا کرنا پڑرہاہے اور اس کے اثرات ہمارے سامنے ہیں۔ماحولیاتی موزونیت اورمطابقت کیلئے منصوبوں میں تمام متعلقہ شراکت داروں اورنجی شعبہ کوحکومت کاساتھ دینا چاہئے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف معیشت بلکہ بیش قیمت انسانی زندگیوں کونقصان پہنچ رہاہے،حالیہ بارشوں اورسیلاب سے اب تک 800قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں جن کاکوئی نعم البدل نہیں، اس تناظرمیں ہمیں ان منصوبوں کوترجیح دیناہوگی جووسائل کے اندررہتے ہوئے مکمل ہوسکتے ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی، ٹیکس، پبلک فنانس اورایس او ایز سمیت اداروں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کاعمل جاری ہے،ایف بی آر میں پیپل، پراسیس اورٹیکنالوجی کی بنیادپراصلاحات ہوئی ہے،حالیہ بجٹ میں تنخواہ دارطبقہ کوریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے،فائلرزکیلئے گوشوارے جمع کرنے کے طریقہ کارکوسادہ اورآسان بنایاگیاہے،75فیصدسے لیکر80فیصد تک کا تنخواہ دارطبقہ اب اپنے گوشوارہ جات خود جمع کرسکیں گے، ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے پالیسی کے شعبہ کوایف بی آر سے واپس لیکروزارت خزانہ کودیاگیاہے اس سے پالیسیوں کے تسلسل کویقینی بنانے میں مدد ملے گی اورمقامی اورغیرملکی سرمایہ کاروں کوبھی فائدہ پہنچے گا۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کاعمل جاری ہے، 43وزارتوں اوران سے منسلک 400اداروں کاجائزہ لیاجارہاہے،24اداروں کونجکاری کمیشن کے حوالہ کر دیا گیا ہے،پی ڈبلیوڈی اوریوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ختم کردئیے گئے ہیں،یہ سخت فیصلے ہیں مگراس سے بدعنوانی کوختم کرنے اورشفافیت کوفروغ دینے میں مدد ملے گی، ہم سمجھتے ہیں کہ نجی شعبہ کو قائدانہ اورحکومت کوبہترماحول کی فراہمی کے حوالہ سے کردار ادا کرنا چاہئے،اسی طرح نجکاری کاعمل بھی بتدریج آگے بڑھ رہاہے، پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئی ہیں۔