بلوچستان کی خواتین اراکینِ اسمبلی کے اعلیٰ سطحی وفد کا ترکیہ کا دورہ، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

استنبول/انقرہ۔25جنوری (اے پی پی):بلوچستان اسمبلی کی خواتین اراکین پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ترکیہ کا سرکاری دورہ کیا جس کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے مابین پارلیمانی، سفارتی، معاشی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینا تھا۔وفد کی قیادت بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما اور صدر ویمن ونگ بی اے پی فرح عظیم شاہ ایم پی اے نے کی۔ وفد میں سلمیٰ کاکڑ ایم پی اے …

استنبول/انقرہ۔25جنوری (اے پی پی):بلوچستان اسمبلی کی خواتین اراکین پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ترکیہ کا سرکاری دورہ کیا جس کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے مابین پارلیمانی، سفارتی، معاشی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینا تھا۔وفد کی قیادت بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما اور صدر ویمن ونگ بی اے پی فرح عظیم شاہ ایم پی اے نے کی۔ وفد میں سلمیٰ کاکڑ ایم پی اے (اے این پی)، ہادیہ نواز ایم پی اے (مسلم لیگ ن) اور کلثوم ایم پی اے (نیشنل پارٹی) شامل تھیں۔

دورے کے دوران وفد نے ترکیہ کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور پارلیمانی نمائندوں سے متعدد اہم ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تعاون،نوجوانوں کی ترقی، تعلیم، سرمایہ کاری اور مثبت بیانیے کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کی قیادت سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات، پارلیمانی تعاون اور علاقائی ترقی کے امور زیرِ بحث آئے۔اس موقع پر وفد نے سعدت پارٹی کے نائب صدر اور ترک قومی اسمبلی کے نیٹو گروپ کے رکن سینیٹر ڈاکٹر مصطفیٰ کایا سے بھی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران فرح عظیم شاہ نے بلوچستان کی اسٹریٹجک اہمیت، قدرتی وسائل، اور ترقیاتی امکانات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بلوچستان سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) جیسے منصوبے صوبے کے ترقیاتی منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔انہوں نے ترکیہ کو بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز،انفراسٹرکچر، نوجوانوں کی مہارتوں کے فروغ اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ ترک جامعات میں پاکستانی بالخصوص بلوچ طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی فراہمی کی بھی درخواست کی۔

فرح عظیم شاہ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، بلوچ عوام ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے فرنٹ لائن سولجرز کا کردار ادا کر رہے ہیں اور پاکستان کے تقریباً نصف رقبے کے محافظ ہیں۔ترک قیادت نے وفد کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ فرح عظیم شاہ کی قیادت میں وفد کے ذریعے انہیں بلوچستان کا اصل اور مثبت چہرہ دیکھنے کا موقع ملا۔ترک رہنماؤں نے بلوچستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ ثقافت پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے اور بلوچستان جیسےباصلاحیت اور محبِ وطن پارلیمنٹیرینز رکھنے والا صوبہ پاکستان کو ترقی کی نئی منازل تک لے جائے گا۔

ترک قیادت نے عالمی میڈیا میں بلوچستان کے منفی تاثر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا حصہ ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے مابین مشترکہ تھنک ٹینک اور ورکنگ گروپ کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد پالیسی سطح پر تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع، نوجوانوں کے تبادلے کےپروگرام اور جعلی خبروں و منفی پروپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور باقاعدہ روابط پر بھی اتفاق کیا گیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ دورہ پاک۔ترک تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے جوپارلیمانی سفارتکاری، خواتین قیادت کے کردار، نوجوانوں کی ترقی اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔