کوئٹہ۔ 18 اگست (اے پی پی):ترجمان علاقائی موسمیاتی مرکز کوئٹہ نے کہا ہے کہ قلات، خضدار، مستونگ، آواران، سوراب، کیچ، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، کچھی، زیارت، سبی، نصیرآباد، اوستامحمد، جھل مگسی، صحبت پور، موسی خیل، بارکھان، شیرانی، لورالائی، کوہلو، دکی، حب، لسبیلہ اور جعفرآباد ڈسٹرکٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔جبکہ قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، پنجگور، واشک اور ساحلی پٹی کے علاقے جیونی، پسنی، گوادر، اور اورماڑہ میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو سکتی ہے۔
وقفے وقفے سے تیز بارش کی وجہ سے قلات، خضدار، سوراب، آواران، زیارت، ہرنائی، کچھی، جھل مگسی، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان، موسی خیل میں سیلابی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جبکہ سبی، نصیر آباد، اوستا محمد، جعفرآباد اور صحبت پور کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی امکان ہے۔ علاقائی موسمیاتی مرکز کے مطابق سوموار کے روز صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ قلات، خضدار، سوراب، کوئٹہ، ہرنائی، زیارت، ڈیرہ بگٹی، مستونگ، آواران، پنجگور، کیچ، لسبیلہ اور صوبے کی ساحلی پٹی میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش متوقع ہے۔
جھل مگسی، سبی، کوہلو، نصیرآباد، اوستامحمد، جعفرآباد اور صحبت پور میں ہلکی بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت نوکنڈی میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ، دالبندین میں 41، سبی میں 41، پنجگور اور لسبیلہ میں35، کوئٹہ 34 اور گوادر میں 33 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ قلات میں 48 ملی میٹر، سبی میں 21 ایم ایم، خضدار میں10 ملی میٹر اوستامحمد میں 12 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمنگلی میں 10 ایم ایم کوئٹہ شہر میں6 ایم ایم، اور سریاب میں 2 ملی میٹر، ژوب اور چمن میں 9، پشین میں 4، بارکھان میں 3، لسبیلہ اور لورالائی میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ترجمان علاقائی موسمیاتی مرکز کوئٹہ کے مطابق اگلے 48 گھٹنوں کے دوران صوبے کے بیشتر علاقے ایک بھاری موسمی نظام کے زیر سایہ رہیں گے جس سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ ہے۔ یہ نظام ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان، شیرانی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، دکی، کچھی، ہرنائی، زیارت، قلات، سوراب، خضدار میں وقفے وقفے سے تیز بارش کا سبب بھی بن سکتا ہے جس سے سبی، مسلم باغ نصیر آباد، اوستہ محمد، جھل، صحبت پور، آواران، کیچ، پنجگور، گوادر، جیونی، پسنی، اورماڑہ، حب اور لسبیلہ کے نشینی علاقے زیر آب بھی آسکتے ہیں۔ جس کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں، حکام سے گزارش ہے کہ وہ چوکس رہیں اور فوری ضروری اقدامات کریں۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=495085