ڈھاکہ۔25اگست (اے پی پی):بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران احتجاجی مظاہروں کے شرکا پر ہولناک تشدد کیے جانے کا انکشاف ہو ا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے سینکڑوں افراد کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا اور انہیں آنکھوں میں گولیاں ماری گئیں۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل )1-ICT )کے سامنے بطور گواہ پیش ہونے والی ڈھاکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ہاسپٹل (Nioh) کی ماہر امراض چشم اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ذکیہ سلطانہ نیلا نے بتایا کہ ان کے پاس تشدد کا شکار احتجاجی مظاہرین کو لائے جانے کا سلسلہ 17 جولائی 2024 کو شروع ہوا ۔ پہلے دن دھاتی چھروں اور گولیوں سے زخمی ہونے والے پانچ افراد کا علاج کیا گیا۔
اگلے دن 18جولائی ایک خون آشام دن ثابت ہوا۔ اس دن 200 کے قریب زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے ایک سو سے زیادہ کو فوری طبی امداد کے بعد واپس بھیجا گیا جبکہ 100 کے قریب زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ۔ اس دن دوپہر کے وقت جب میں ایمرجنسی وارڈ پہنچی تو میں نے ایک ہولناک منظر دیکھا۔ 14 سے 25 سال کی عمر کےایک سوسے زیادہ افراد کی آنکھیں زخمی تھیں۔ ان میں سے کچھ کی دونوں آنکھوں میں خون بہہ رہا تھا اور کچھ کی ایک آنکھ زخمی تھی۔
ڈاکٹر ذکیہ سلطانہ نیلا نے مزید کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے 18 جولائی 2024 کو رات 9 بجے تک 10 آپریشن تھیٹر ز میں سرجریز کیں۔ اگلے دن انہیں تقریباً اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ نیلا نے کہا کہ ہمیں موصول ہونے والے زیادہ تر مریض دھاتی چھروں سے زخمی ہوئے تھے، جبکہ کچھ کو گولیوں کے زخم تھے۔ زخموں کی نوعیت میں کچھ افراد کا قرنیہ کا سوراخ، دوسروں میں سکلیرا (آنکھ کا سفید حصہ)پھٹ چکا تھا اوربعض افراد کی آنکھوں کے ڈھیلے مکمل طور پر پھٹ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 4، 5 اور 6 اگست 2024 کے دوران بڑی تعداد میں زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا۔
ڈاکٹر ذکیہ سلطانہ نیلا نے بتایا کہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں میں سے 493 مریضوں کی ایک آنکھ کی بینائی مستقل طور پر ختم ہو چکی تھی، 11 مریضوں کی دونوں آنکھوں کی بینائی مستقل طور پر ختم ہو چکی تھی، 28 مریض دونوں آنکھوں میں بصارت کی شدید خرابی میں مبتلا تھے، اور 47 مریض ایک آنکھ میں بصارت شدید متاثر ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اس قدر خوف کی فضا پیدا کر دی تھی کہ زیادہ تر متاثرین گرفتاری کے خوف سےہسپتال میں داخل ہونے کے لیے اپنا عرفی نام یا تخلص استعمال کرتے اور اپنا اصل نام پتہ بتانے سےگریز کرتے تھے اور غلط موبائل نمبر اور شناختی کارڈ نمبر دیتے تھے ۔
واضح رہے کہ یہ صرف وہ لوگ تھے جن کو آنکھیں زخمی ہونے پر علاج کے لئے اس ایک ہسپتال میں لایا گیا تھا ۔ یہ مقدمہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ، سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور سابق آئی جی پی چودھری عبداللہ المامون کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ ٹریبونل نے 10 جولائی کو تینوں ملزمان پر جولائی-اگست 2024 کی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم میں ان کے کردار پر فرد جرم عائد کی تھی ۔
چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال مفرور ہیں اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق وہ بھارت میں ہیں۔استغاثہ نے 12 مئی کو آئی سی ٹی کی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے دائر کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد شیخ حسینہ واجد ، اسد الزماں خان کمال اور عبداللہ المامون کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور اجتماعی قتل کے پانچ الزامات عائد کر رکھے ہیں۔