بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت کے خلاف شدید عوامی احتجاج

ڈھاکہ۔19دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیشی سیاسی کارکن عثمان ہادی کی بھارت سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد ہلاکت نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ عثمان ہادی، جو ڈھاکہ میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے، دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد دارالحکومت ڈھاکہ احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔مظاہرین نے غم و غصے میں شیخ مجیب الرحمٰن کا گھر نذرِ آتش کر دیا …

ڈھاکہ۔19دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیشی سیاسی کارکن عثمان ہادی کی بھارت سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد ہلاکت نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ عثمان ہادی، جو ڈھاکہ میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے، دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد دارالحکومت ڈھاکہ احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔مظاہرین نے غم و غصے میں شیخ مجیب الرحمٰن کا گھر نذرِ آتش کر دیا اور بھارتی مداخلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ بھارتی جریدے ’’دکن ہیرالڈ‘‘کے مطابق احتجاج کے باعث ڈھاکہ میں بھارتی سفارت خانے کا ویزا سینٹر تاحال بند ہے۔

بنگلہ دیشی رہنما راشد پردھان نے بھارت کو دو ٹوک للکارتے ہوئے کہا کہ بنگالی سرزمین پر بھارتی بالادستی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنی مداخلت اور قاتلوں کی پشت پناہی بند نہ کی تو یہ مزاحمت سرحد پار تک پھیل سکتی ہے۔

بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے پہلے ہی بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عثمان ہادی پر حملے میں ملوث افراد کو حوالے کرے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی سفاک پالیسیوں نے خطے کو تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ بنگلہ دیشی عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔