ڈھاکہ ۔21مارچ (اے پی پی):بنگلہ دیش کے طالب علم رہنما حسنات عبداللہ نے بھارت پر شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کی بحالی کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے اس جماعت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ حسنات عبداللہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے حکومت کے خلا ف طلبہ تحریک کے اہم رہنمائوں میں شامل تھے اور وہ اس وقت حال ہی میں تشکیل دی گئی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے چیف آرگنائزر (سائوتھ) ہیں۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار فیس بک پوسٹ میں کیا جو فوری طور پر وائرل ہو گئی۔
اس پوسٹ میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ 11 مارچ کو کنٹونمنٹ میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں ان کو اور ان کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے دو دیگر رہنمائوں کو فوج کی طرف سے سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کو مرکزی دھارے کی سیاست میں واپس لانے کی تجویزکے ساتھ آئندہ انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی پیش کی گئی تھی اور کہا گیا کہ انہیں یہ پیش کش قبول کر لینی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ یہی تجویز متعدد سیاسی جماعتوں کے سامنے بھی رکھی گئی تھی اور کچھ شرائط کے ساتھ بعض سیاسی جماعتوں نے اس تجویز کی حمایت پر رضامندی بھی ظاہر کی ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں بہت سی اپوزیشن جماعتوں کی موجودگی کی بجائے ایک اپوزیشن پارٹی بہتر رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس تجویز کا نتیجہ ہے کہ میڈیا میں بہت سے سیاستدان عوامی لیگ کے حق میں بول رہے ہیں۔حسنات عبداللہ نے کہا کہ یہ منصوبہ بھارت کی طرف سےبنایا جا رہا ہے جس کا مقصد سابق ایم پی صابر حسین چودھری، سابق سپیکر شیریں شرمین چودھری اور ڈھاکہ جنوبی کے سابق میئر فضل نور تاپوش کو ’’تطہیر شدہ عوامی لیگ‘‘ کی شناخت دی جائے۔
حسنات عبداللہ نے کہا کہ ہمیں مزید بتایا گیا کہ اپریل-مئی کے بعد سے، یہ اصلاح شدہ عوامی لیگ شیخ خاندان کے جرائم کا اعتراف کرنا شروع کر دے گی، حسینہ واجد کو مسترد کر دے گی اور عوام کے سامنے بنگا بندھو کی عوامی لیگ کو دوبارہ قائم کرنے کا وعدہ کرے گی۔ حسنات عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا اور فوج کو بتایا کہ عوامی لیگ کی بحالی کے بجائے انہیں ان کے جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے کام کیا جانا چاہیے۔
اس پر ہمیں بتایا گیا کہ اگر ہم عوامی لیگ کی واپسی پر اعتراض کرتے ہیں، تو ہم اس سے ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے ذمہ دار ہوں گے اور یہ کہ عوامی لیگ کو ہر صورت واپس آنا چاہیے ۔حسنات عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے تجویز پیش کرنے والوں کو بتایا کہ وہ اس جماعت کو معاف کرنے کی کیسے بات کر رہے ہیں جس نے اپنے جرائم پر ابھی تک خود معافی نہیں مانگی جس پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔
حسنات عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے تجویز پیش کرنے والوں پر واضح کر دیا کہ عوامی لیگ کی واپسی ہماری لاشوں پر ہی ہو سکتی ہے اور ایسی کسی کوشش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے کسی بھی بحران کے ہم ذمہ دار نہیں ہو ں گے اور ہم ایسی کسی کوشش کو روکنے کے لئے ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کو تیار ہیں۔دریں اثناء جماعت اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے ایک بیان میں پہلی بار طالب علم رہنما حسنات عبداللہ کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی لیگ کی بحالی کو عوام قبول نہیں کریں گے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=575008