بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا،فیصلے نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم اور روشن خیالی کا پردہ چاک کر دیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 09 نومبر (اے پی پی) دفتر خارجہ نے بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔فیصلے نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم اور روشن خیالی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ہفتہ کو تاریخی بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری …

اسلام آباد ۔ 09 نومبر (اے پی پی) دفتر خارجہ نے بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔فیصلے نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم اور روشن خیالی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ہفتہ کو تاریخی بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ فیصلہ سے واضح ہو گیاکہ بھارت میں اقلیتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں جبکہ بھارت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا۔فیصلہ ظاہر کرتا ہے بھارت میں اقلیتیں اور ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں۔ عالمی برادری بھارت کو انتہاپسند نظریے سے روکنے کیلئے کردار ادا کرے۔ترجمان نے کہا کہ فیصلے سے بھارت کی نام نہاد روشن خیالی کا پردہ چاق ہوگیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسند نظریہ خطے کے امن واستحکام کیلئے خطرہ بن گیا۔بھارتی حکومت مسلمانوں کے جان و مال اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ترجمان نے کہا بھارتی حکومت ایک بار پھر انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ اقوم متحدہ نے کہا تھا کہ کہ بھارتی عدالتیں فیصلوں میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں سست روی ہے۔بھارت میں اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں میں خطرہ ہے ،بھارت ہندو توا کے نظریئے کی پیروی اور ہندو راشٹر کی تاریخ پر عمل پیرا ہے،جو علاقائی امن و استحکام کیلئے شدید خطرہ ہے۔ایسے فیصلوں سے بھارت کے بڑے ادارے بھی متاثر ہونگے۔انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں ،انکی جانوں،حقوق اور املاک کو تحفظ یقینی بنائے۔ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری ،اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں کا تحفظ اور انہیں مساوی حقوق کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں