اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):جموں و کشمیر نیشنل فرنٹ کے قائمقام چیئرمین الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کشمیر کی حالیہ تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ کھلم کھلا جارحیت تنازع کشمیر کی بنیادی جڑ ہے، جو کئی دہائیوں گزرنے کے باوجود جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا …
بھارت کا کشمیر پر جابرانہ قبضہ جنوبی ایشیا میں تنازع اور بدامنی کی جڑ ہے، الطاف حسین وانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):جموں و کشمیر نیشنل فرنٹ کے قائمقام چیئرمین الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کشمیر کی حالیہ تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ کھلم کھلا جارحیت تنازع کشمیر کی بنیادی جڑ ہے، جو کئی دہائیوں گزرنے کے باوجود جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جارحیت نے نہ صرف تقسیم ہند کے منصوبے پر امن عملدرآمد میں رکاوٹیں پیدا کیں بلکہ پورے خطے کو افراتفری اور عدم استحکام کے دلدل میں دھکیل دیا۔،بھارت نے 1947 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو خونریزی شروع کی تھی وہ آج بھی بلا روک ٹوک جاری ہے،معصوم لوگ آج بھی بے گناہی کے جرم میں مارے جا رہے ہیں۔
کشمیر پر بھارت کے نوآبادیاتی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی نوآبادیاتی پالیسیاں کشمیریوں میں خوف و عدم تحفظ کا احساس پیدا کر چکی ہیں، اور اب وہ اپنے ہی وطن میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد تنازع نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔الطاف حسین وانی نے کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تشویش ناک امر ہے کہ عالمی طاقتیں اس دیرینہ تنازع کے خطرناک پہلو کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔
انہوں نے بااثر عالمی حکومتوں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کا مؤثر نوٹس لیں۔ ’اگر یہ تنازع حل نہ ہوا تو مزید قیمتی جانوں کے ضیاع اور اس نازک خطے میں مزید بدامنی کا باعث بنے گا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکمران نہ صرف ریاستی جبر کے آلات استعمال کر رہے ہیں بلکہ نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کی جائز سیاسی امنگوں کو کچلنے اور جمہوری اختلاف رائے کو دبانے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر پر اپنے وعدوں کے باوجود بھارت کی متواتر حکومتوں نے کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو ختم کرنے کے لیے دھوکے اور فریب کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔
الطاف حسین وانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ قراردادیں جو خطے میں آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا مطالبہ کرتی ہیں، خود بھارت کے نمائندے، بالخصوص اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے تسلیم کی تھیں۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے دونوں جوہری طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔الطاف حسین وانی نے کہا کہ کشمیر کا غیر حل شدہ تنازع خطے کے امن اور استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے طویل فوجی قبضے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔








