پشاور۔ 02 اپریل (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں دیگر شعبوں کی طرح ماہی گیری کا روزگار بھی خطرات سے دوچار ہے۔ ماہی گیری کے روزگار سے وابستہ ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ سے تعلق رکھنے والے زاہد خان بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ صبح سویرے اپنی موٹر سائیکل سٹارٹ کرتے ہیں، چارے کے …
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں ماہی گیری کا روزگار خطرات سے دوچار

مزید خبریں
پشاور۔ 02 اپریل (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں دیگر شعبوں کی طرح ماہی گیری کا روزگار بھی خطرات سے دوچار ہے۔ ماہی گیری کے روزگار سے وابستہ ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ سے تعلق رکھنے والے زاہد خان بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ صبح سویرے اپنی موٹر سائیکل سٹارٹ کرتے ہیں، چارے کے تھیلے سنبھالتے ہیں اور سیدھے دریائے سندھ کے کنارے بنے اپنے دو ایکڑ کے مچھلی فارم کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ سال سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد ان کے سر پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ 38 سالہ ماہی گیر زاہد خان نے مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں پر تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے لاکھوں ماہی گیروں کےلیے زندگی ہے، اگر دریا رک گیا تو ہمارے روزگار بھی رک جائیں گے۔زاہد خان اور ان جیسے ہزاروں افراد کےلیے گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔زاہد خان کا کہنا ہے بھارتی خلاف ورزیاں انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ اور لاکھوں جانداروں کی بقا کےلیے براہِ راست خطرہ ہے۔ ان کے چھوٹے سے مچھلی فارم پر تالابوں میں راہو، سنگھاڑا، لالا راہو اور مہاشیر مچھلیاں موجود ہیں۔ یہ مچھلیاں نہ صرف پیداوار کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کا پورا ذریعہ معاش ہیں جو ان کے خاندانوں کو معاشرے میں وقار کے ساتھ جینے کا سہارا دیتی ہیں۔
زاہد خان اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے بہتے ہوئے دریا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ ان سب کا انحصار بڑی حد تک سندھ، چناب اور جہلم کے بلا تعطل پانی پر ہے کیونکہ ان دریاؤں پر پاکستان کے حقوق بین الاقوامی سطح پر اور بھارت کی جانب سے بھی تسلیم کیے گئے ہیں اور بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں چند دنوں کا تعطل بھی لاکھوں مچھلیوں کے بچوں (سیڈ) کو مار سکتا ہے اور غریب ماہی گیروں کی مہینوں کی محنت کو برباد کر سکتا ہے، ہم نے گزشتہ سال دسمبر میں چناب پر پابندیوں اور بھارت کی جانب سے بگلیہار ڈیم پر غیر قانونی طور پر پانی روکے جانے کے بارے میں سنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے غیر قانونی اقدامات جاری رہے تو نہ صرف میرا فارم بلکہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں مچھلیوں کے ہزاروں دیگر فارمز تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔مچھلیاں یقینی طور پر مر جائیں گی اور لوگوں کے پاس شاید ہی کوئی سمندری خوراک (سی فوڈ) باقی بچے۔ صوابی، ہری پور، کوہستان، آزاد کشمیر اور پنجاب بھر میں مچھلیوں کی افزائش کا براہِ راست تعلق دریائے سندھ کے نظام سے ہے۔ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی مداخلت پہلے سے کمزور شعبے میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور یہ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار کرے گی۔ محکمہ ماہی گیری خیبر پختونخوا کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد شفیع مروت نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے غذائی نظام اور لوگوں پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کو معطل کرنا یا اسے نقصان پہنچانا کوئی تکنیکی یا سفارتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری زراعت، خوراک کے نظام اور روزگار پر براہِ راست حملہ ہے۔مچھلیوں کی افزائش غیر یقینی پانی پر نہیں ہوسکتی۔ اگر پانی کا بہاؤ روکا گیا تو افزائشِ نسل کا عمل راتوں رات تباہ ہو سکتا ہے۔محمد شفیع مروت نے کہا کہ براؤن اور رینبو ٹراؤٹ جیسی مچھلیاں زیادہ تر سوات، کنہار اور نیلم جیسے دریاؤں میں پھلتی پھولتی ہیں، پانی کے بہاؤ اور درجہ حرارت میں تبدیلی کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتی ہیں اور پانی کی عدم دستیابی یا دریا کے بہاؤ میں کمی کی صورت میں زیادہ تر ہلاک ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیریں علاقوں میں مہاشیر جیسی اقسام کو بھی اتنا ہی خطرہ ہے۔ گلگت بلتستان سے پنجاب تک، ماہی گیری، جنگلی حیات، جنگلات، ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں موسمی حالات اور بارشوں کے پیٹرن میں خلل پڑے گا، جب آپ ایک دریا کو متاثر کریں گے تو آپ پورے خطے کے ماحولیاتی اور غذائی سلسلے کو غیر مستحکم کر دیں گے۔ پشاور یونیورسٹی کے سینئر ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد نعیم خٹک نے اس اس صورتحال کو قومی غذائی ایمرجنسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زراعت اور ماہی گیری کا ایک بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔ یہ صرف وسائل کا مسئلہ نہیں بلکہ غذائی تحفظ کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے ضامن کے طور پر ورلڈ بینک پر زور دیا کہ وہ فوری مداخلت کرے اور پاکستان میں لاکھوں جانوں کو فاقہ کشی اور بھوک سے بچائے۔
ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیئرز سے سیراب ہونے والا یہ دریاؤں کا نظام پاکستان میں لاکھوں کی آبادی کا سہارا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے انسانوں، جنگلی حیات، شہد کی مکھیوں، آبی حیات اور آبی ذخائر پر فوری اور شدید غذائی نتائج مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی میں کمی خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں زراعت اور باغات کی پیداوار میں 40 فیصد تک کمی کر سکتی ہے۔ یہ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کا شکار کر دے گا، یہ صرف معاشی یا پانی کا مسئلہ نہیں، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی توجہ کی اپیل کرتے ہوئے فاشسٹ مودی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا کہ وہ اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلے کو واپس لے، ورنہ یہ پورے خطے کو غذائی عدم تحفظ کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو ایک جغرافیائی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک معاہدے کے ضامن کے طور پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا اور اگر یہ تنازعہ بڑھتا ہے تو یہ برصغیر کے امن کو خطرے میں ڈال دے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سندھ میں پانی کی قلت نے 150,000 ایکڑ پر کپاس کی بوائی میں تاخیر کی جس سے پیداوار اور معیار دونوں میں کمی آئی۔ گزشتہ دسمبر میں چناب میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کی اطلاعات نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں ماہرین اور خیبر پختونخوا کے ماہی گیروں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
محکمہ ماہی گیری خیبر پختونخوا کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد شفیع مروت کے مطابق اگر پانی روکا جائے اور پھر اچانک چھوڑ دیا جائے تو اس سے سیلاب آتے ہیں، ہم نے یہ منفی رویہ حال ہی میں پنجاب کے دریائے جہلم اور راوی میں دیکھا ہے جہاں بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوئیں، مچھلیوں کے فارم ختم ہوئے اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ دوسری طرف، مغربی دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی زمین اور آبی ذخائر کو سیلٹ سے محروم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیلٹ قدرتی کھاد ہے۔اس کے بغیر مٹی کی زرخیزی کم ہو جاتی ہے، افزائشِ نسل کے مقامات سکڑ جاتے ہیں اور زراعت و ماہی گیری میں پیداواری صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلاتی وسائل کی کمی کے نتیجے میں ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ضلع صوابی کے زاہد خان جیسے چھوٹے کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو بقا مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی کے ساتھ بہت سے ماہی گیر ٹیوب ویلوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جس کا مطلب توانائی کے بھاری اخراجات پر زمینی پانی نکالنا ہے۔ ڈاکٹر محمد نعیم خٹک کے مطابق زاہد خان جیسے ماہی گیروں کےلیے یہ ورلڈ بینک اور عالمی برادری کےلیے ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ فاقہ کشی اور بھوک سے بچانے کےلیے فوری مداخلت کریں۔ مشرق وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی کے باعث زراعت، مچھلی کے گوشت اور تیل کی مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں خطے میں غذائی عدم تحفظ اور معاشی زوال کا باعث بنیں گی۔
اگر یہ منفی صورتحال برقرار رہی تو خطے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے چھوٹے کسانوں اور ماہی گیروں کے غذائی نظام سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر دریاؤں کا پانی رک گیا تو اس کے نتائج صرف رپورٹوں اور مذاکرات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خالی بازاروں، بڑھتی ہوئی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور خطے میں بڑھتی دیہی غربت کی صورت میں محسوس کیے جائیں گے۔ ماہرین نے بہتر واٹر ڈپلومیسی، پانی ذخیرہ کرنے کے بہتر ڈھانچے، آبپاشی کے جدید نظام، وسائل کے موثر انتظام اور سب سے بڑھ کر اس پر زور دیا کہ صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے درمیان 1960 میں طے پانے والے تاریخی سندھ طاس معاہدے کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر نعیم خٹک نے کہا کہ پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہا۔ یہ معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور انسانی بقا کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے اور اس پر منحصر لاکھوں لوگوں کےلیے غلطی کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔انہوں نے معاہدے کو علاقائی استحکام کے سنگ بنیاد کے طور پر محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ پاکستان کےلیے پانی اب صرف ایک وسیلہ نہیں بلکہ زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں کی بقا کا معاملہ ہے۔








