بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی،حریت کانفرنس

بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی،حریت کانفرنس

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و شاخ کے سینئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔یہاں جاری بیان کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودری شاہین اقبال نے اسلام آباد سے جاری ایک مشترکہ بیان میں تنازعۂ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لیے ظلم و تشدد، گھروں پر چھاپوں، محاصرے اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں، جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

حریت رہنماؤں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی جابرانہ پالیسی ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے تنازعۂ کشمیر کے پرامن اور دیرپا حل کی راہ ہموار کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے حریت قیادت سمیت ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے غیر قانونی طور پر جیلوں میں قید کر رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو کمزور نہیں کیا جا سکا۔

حریت رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری شہداء کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور کشمیری عوام اپنی منصفانہ جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور سیاسی جبر کا نوٹس لے اور تنازعۂ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔