19.9 C
Islamabad
اتوار, اپریل 6, 2025
ہومشوبزبھار تی لیجنڈ اداکار منوج کمار کی ایبٹ آباد سے جڑی یادیں،...

بھار تی لیجنڈ اداکار منوج کمار کی ایبٹ آباد سے جڑی یادیں، اہل محلہ سوگوار ، دورہ پاکستان کے یادگار لمحات آج بھی باسیوں کے دلوں میں زندہ

- Advertisement -

ایبٹ آباد۔5اپریل (اے پی پی):بالی ووڈ کے معروف اداکار منوج کمار کی جڑیں ایبٹ آباد سے جڑی رہیں جو گزشتہ روز 87 برس کی عمر میں بھارتی شہر ممبئی میں چل بسے اُن کے انتقال پر نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد،خصوصاً محلہ نورالدین میں بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جہاں منوج کمار نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ گزارا تھا،منوج کمار 1937 میں اُس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے اور موجودہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے،

اُن کا آبائی گھر ٹانچی چوک کے قریب محلہ نورالدین میں واقع تھا،اُنہوں نے اپنی ابتدائی زندگی کے قیمتی سال اسی محلے کی گلیوں میں گزارے جو آج بھی اُن کی یادوں کو سنبھالے ہوئے ہیں،اگرچہ منوج کمار تقسیم ہند کے وقت اپنے خاندان کے ہمراہ ایبٹ آباد سے ہجرت کر گئے تھے

- Advertisement -

لیکن وہ ساری زندگی اپنی جنم بھومی کو محبت اور احترام سے یاد کرتے رہے، اپنے مختلف انٹرویوز اور گفتگو میں وہ اکثر ایبٹ آباد کے سادہ مگر محبت بھرے ماحول،وہاں کے خلوص اور لوگوں کی مہمان نوازی کو سراہتے،وہ یہ بات واضح طور پر کہتے تھے کہ اُن کی شخصیت اور اقدار کی بنیاد اسی شہر کی پرورش سے جڑی ہے۔

منوج کمار نے یہ بھی کئی بار بتایا کہ اُن کے والدین پہلے ایبٹ آباد سے پنجاب منتقل ہوئے اور پھر تقسیم کے بعد بھارت چلے گئے،ان کے دل میں ایبٹ آباد کے لیے ایک خاص جگہ ہمیشہ موجود رہی جس کا اظہار اُن کی زندگی بھر کی باتوں اور رویے سے جھلکتا رہا،1980 کی دہائی میں اُنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے بچپن کے شہر ایبٹ آباد آئے، اس دورے میں وہ پاکستان کے نامور اداکار محمد علی اور زیبا بیگم کے ہمراہ تھے،یہ ایک یادگار موقع تھا جب پورا شہر اُن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اُمڈ آیا تھا۔

اُنہوں نے اپنے آبائی گھر کا دورہ کیا، اُس کمرے میں گئے جہاں اُن کی پیدائش ہوئی تھی اور اس موقع کی تصاویر بھی بنائیں،مقامی افراد جو اُن کے خاندان کو یاد رکھتے تھے اُن سے ملاقات بھی کی،یہ دورہ نہ صرف ایک جذباتی لمحہ تھا بلکہ اُن کے آبائی شہر سے گہرے رشتے کا ثبوت بھی،ایڈووکیٹ معین قریشی جو منوج کمار کے سابقہ ہمسائے ہیں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ منوج کمار کی آمد پر ایسا لگا جیسے ایبٹ آباد کی تاریخ لوٹ آئی ہو،میں اُس وقت کم عمر تھا لیکن اُن کی آمد کا منظر آج بھی میری یادوں میں تازہ ہے،اُنھیں دیکھنے کے لیے پورا شہر ہی آُمڈ آیا تھا،ایک اور سابق ہمسائے منیر قریشی نے کہا کہ منوج کمار کے انتقال سے صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایبٹ آباد کا ایک قابل فخر بیٹا ہم سے جدا ہو گیا ہے

اُن کی یادیں آج بھی یہاں کے باسیوں کے دلوں میں زندہ ہیں،محلہ نورالدین کے ایک اور رہائشی مظہر حسین جو منوج کمار کے آبائی گھر میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک بطور کرایہ دار مقیم رہے ،نے اے پی پی کو بتایا جب تک میں اُس گھر میں رہا وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا اُن کا خاندان چھوڑ کر گیا تھا بعد ازاں اُس گھر کو مسمار کر کے نئی تعمیرات کر دی گئیں لیکن اُس کی یادیں آج بھی زندہ ہیں،منوج کمار نے 1957 میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی بالی ووڈ کے صفِ اول کے اداکاروں میں شمار ہونے لگے وہ نہ صرف ایک اداکار تھے بلکہ ہدایتکار،مصنف اور ایک باوقار محب وطن شخصیت بھی تھے

اُنہوں نے فلمی صنعت کو کئی یادگار فلمیں دیں جن میں شہید،اُپکار،پورب اور پچھم،کرانتی جیسے نام شامل ہیں،اُن کی وفات پر جہاں بھارتی فلمی صنعت سوگوار ہے وہیں پاکستان میں بھی ایبٹ آباد کے عوام،خصوصاً محلہ نورالدین کے باسی اُنہیں احترام،محبت اور فخر کے ساتھ یاد کر رہے ہیں جو ایبٹ آباد کے لیے ایک قابلِ فخر شناخت تھے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=578694

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں