بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی بلیک لسٹ میں شامل کرنا پائیدار علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، ’’دی ڈپلومیٹ تجزیہ ‘‘

ماہرین نے علاقائی استحکام اور سرحد پار عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کے غیر متزلزل عزم پر زور دیتے ہوئے اس بات کی فوری ضرورت اجاگر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری، خصوصاً واشنگٹن، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی سطح پر بلیک لسٹ

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):ماہرین نے علاقائی استحکام اور سرحد پار عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کے غیر متزلزل عزم پر زور دیتے ہوئے اس بات کی فوری ضرورت اجاگر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری، خصوصاً واشنگٹن، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی سطح پر بلیک لسٹ کرنے کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کرے۔بین الاقوامی آن لائن جریدے ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے پاکستان اور چین کی جانب سے پیش کی گئی مشترکہ تجویز کو روک دیا تھا۔ اس تجویز کا مقصد ’’بی ایل اے ‘‘اور اس کی مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام کے تحت نامزد کرنا تھا۔اس پیش رفت نے عالمی سطح پر یکساں انسدادِ دہشت گردی کے معیارات کی ضرورت کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ واشنگٹن خود ماضی میں بی ایل اے کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اور خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے نظام کے تحت ’’بی ایل اے ‘‘کو فہرست میں شامل کرنے کے جواز کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے واضح طور پر ’’بی ایل اے ‘‘کو افغانستان سے سرگرم عالمی جہادی نیٹ ورکس سے جوڑا۔انہوں نے کہا کہ داعش خراسان (ISIL-K)، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسی تنظیمیں افغان پناہ گاہوں میں موجود ہیں، جبکہ 60 سے زائد دہشت گرد کیمپ سرحد پار دراندازی اور حملوں میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔تاہم سلامتی کونسل کے تین مستقل ارکان، امریکہ، فرانس اور برطانیہ، نے تکنیکی وجوہات پیش کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمیٹی خاص طور پر القاعدہ، داعش اور ان کے ذیلی گروہوں کو ہدف بناتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مقامی نوعیت کے عسکریت پسند گروہ خود بخود 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے دائرۂ کار میں نہیں آتے، خواہ ان کی کارروائیاں کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہوں یا وہ علاقائی استحکام کے لیے کتنے ہی بڑے خطرات کا باعث کیوں نہ بنیں۔

پاکستان اور چین کی جانب سے ان گروہوں کو سلامتی کونسل کی بلیک لسٹ میں شامل کروانے کی کوشش انسدادِ دہشت گردی کی اہم ترجیحات سے جڑی ہوئی ہے۔ چین نے بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے اور معدنیات کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ ’’بی ایل اے ‘‘کے خطرات کو اپنے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کے لیے براہِ راست چیلنج سمجھتا ہے۔دوسری جانب اسلام آباد کا خیال ہے کہ یہ نامزدگی بی ایل اے کو سفارتی اور مالی لحاظ سے عالمی سطح پر تنہا ءکرنے کے لیے ضروری ہے، خصوصاً ایسے دعوؤں کے تناظر میں کہ بلوچ عسکریت پسندوں کو بیرونی حمایت حاصل ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کی سطح پر کامیاب فہرست بندی دونوں گروہوں کے ممکنہ محفوظ ٹھکانوں کو محدود کرنے اور ان کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کو متاثر کرنے کے لیے ایک کثیرالجہتی فریم ورک فراہم کر سکتی تھی۔تاہم، بالخصوص واشنگٹن کی جانب سے اس اقدام کو روکنا لازماً ’’بی ایل اے ‘‘کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی ناکامی نہیں سمجھا جا سکتا۔ امریکہ پہلے ہی ’’بی ایل اے ‘‘کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے

اور اس پر یکطرفہ طور پر سخت داخلی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔جولائی 2019 میں امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ بعد ازاں اگست 2025 میں محکمہ خارجہ نے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے مجید بریگیڈ کو ’’بی ایل اے ‘‘کی دہشت گرد نامزدگی کا ایک ذیلی نام (Alias) قرار دیا۔محکمہ خارجہ نے ان اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھاکہ آج محکمہ خارجہ کی جانب سے اٹھایا گیا اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے انسدادِ دہشت گردی کے عزم کا مظہر ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کی نامزدگی ہماری اس لعنت کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی معاونت روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔واضح طور پر ایسی نامزدگیاں ’’بی ایل اے ‘‘اور اس سے وابستہ عناصر کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سمیت مختلف پابندیوں کی زد میں لے آتی ہیں۔تاہم اسلام آباد کے حکام کا خیال ہے کہ امریکہ کی مدد سے بی ایل اے کو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں محدود کیا جا سکتا ہے اور سلامتی کونسل میں اس کی بلیک لسٹنگ اس کوشش کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے اعتراضات 1267 کمیٹی کے تکنیکی دائرۂ کار سے متعلق ہیں، لیکن اس کے باوجود ایسے وسیع تر دلائل موجود ہیں

جن کی بنیاد پر واشنگٹن اور اس کے شراکت دار عالمی نامزدگی کی حمایت کر سکتے تھے۔اول، اس قرارداد کی حمایت کثیرالجہتی سفارت کاری کو امریکی داخلی پالیسی کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ بنا سکتی تھی چونکہ امریکہ پہلے ہی ’’بی ایل اے ‘‘کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے، اس لیے اقوام متحدہ میں اس کی حمایت امریکی انسدادِ دہشت گردی کے معیار کی مستقل مزاجی اور ساکھ کو مضبوط کرتی۔دوم، جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی کسی حد تک پاکستان کے ساتھ مسلسل انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون پر منحصر ہے۔اس تناظر میں پاکستان کے لیے ایک بڑے داخلی سلامتی کے خطرے یعنی ’’بی ایل اے‘‘ کی نامزدگی کی مخالفت دوطرفہ تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتی ہے۔مزید برآں، اس سے پاکستان کی ان خطرات کے خلاف تعاون کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے جو امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے اہم ہیں، جیسے داعش خراسان یا افغانستان اور دیگر مقامات پر موجود القاعدہ کے عناصر۔ایک ایسے خطے میں جہاں سرحد پار دہشت گردی اب بھی متحرک اور بدلتی ہوئی نوعیت رکھتی ہے، انسدادِ دہشت گردی کے ایک اہم شراکت دار کو ناراض کرنے کی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ ’’بی ایل اے ‘‘کو اقوام متحدہ کی 1267 فہرست میں شامل کرنا اس کے خلاف کارروائیوں کے ماحول کو کئی طریقوں سے تبدیل کر سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے تحت کسی عسکریت پسند تنظیم کی عالمی نامزدگی تمام رکن ممالک کو قانونی طور پر پابند کرتی ہے کہ وہ اس تنظیم کے اثاثے اور مالی ذرائع منجمد کریں، جس سے تارکینِ وطن کے نیٹ ورکس یا ہمدرد حلقوں سے ملنے والی مالی معاونت روکی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نامزد افراد پر سفری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اور اس تنظیم کو اسلحہ، تکنیکی معاونت یا فوجی امداد فراہم کرنا ممنوع ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ افغانستان سمیت وہ ہمسایہ ممالک، جن پر پاکستان اس گروہ کی مدد کا الزام لگاتا ہے، اس کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے زیادہ بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کریں گے۔اب تک ’’بی ایل اے ‘‘نے اپنی بیشتر پرتشدد کارروائیاں سی پیک کے منصوبوں، چینی اہلکاروں اور پاکستانی اہداف کے خلاف کی ہیں۔ تاہم اس کی سرگرمیوں اور رسائی کے دائرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں خطرات مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر امریکہ نے بھی بلوچستان کے اہم معدنی ذخائر میں دلچسپی ظاہر کی ہے

جس سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ مستقبل میں امریکی سرمایہ کاری اور اہلکار بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔اس حوالے سے اگر ردِعمل کو اقوام متحدہ کے عالمی نظام کے بجائے صرف علاقائی یا یکطرفہ اقدامات تک محدود رکھا جائے تو امریکہ اور دیگر ممالک غیر ارادی طور پر ان ذرائع کو محدود کر سکتے ہیں جو اس گروہ کی عسکری سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔مزید یہ کہ اس طرزِ عمل سے نفاذ کے عمل میں ایسی ممکنہ کمزوریاں باقی رہ سکتی ہیں جو مستقبل میں خطے میں ان کے اپنے بڑھتے ہوئے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ تکنیکی مینڈیٹس اپنی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں ’’بی ایل اے ‘‘جیسے گروہوں سے لاحق حقیقی خطرات پر پردہ نہیں ڈالنا چاہیے، خصوصاً جب ان کی موجودگی پاکستان کی سرحدوں سے باہر بھی ہو۔ ’’بی ایل اے ‘‘کا ایک محدود جغرافیائی دائرے میں سرگرم گروہ سے علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی تنظیم میں تبدیل ہونا ایک متوازن اور مربوط بین الاقوامی ردِعمل کا تقاضا کرتا ہے۔