اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):ماہرین نے خواتین کو تجارت میں بااختیار بنانے کے بارے میں رپورٹ کی رونمائی کے دوران کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تجارت میں خواتین کو بااختیار بنا کر اقتصادی بہتری لائی جا سکتی ہے۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے”تجارت میں خواتین کو بااختیار بنانا“ کے موضوع پر اپنی رپورٹ کی رونمائی کی جس کی معاونت فریڈریش نائومن فائونڈیشن (ایف این ایف) نے کی۔ایس ڈی پی آئی کے نائب سربراہ اور رپورٹ کے شریک مصنف ڈاکٹر وقار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ علاقائی اور آزاد تجارتی معاہدے اور جی ایس پی پلس خواتین کی قیادت والی کاروباری کمپنیوں کیلئے سودمند ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی میں اصلاحات کو صنفی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے کاروبار کرنے کی لاگت کم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور دیگر ڈیجیٹل معیشت کی اصلاحات بھی معلومات اور مارکیٹ تک رسائی کی لاگت کو کم کر سکتی ہیں۔ اسلامی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے رکن ڈاکٹر عارف سلیم نے رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں خواتین کو درپیش مختلف چیلنجز کی نشاندہی کی۔ انہوں نے رپورٹ کی مضبوط طریقہ کار اور معیار کی ضمانت کے اقدامات کی تعریف کی اور کچھ تجاویز بھی د یں جن میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے نہ صرف کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان میں ناخواندہ لوگوں کےلئے ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ تک رسائی کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔
پروگرام منیجر، ایف این ایف پاکستان کی انیقہ ارشدنے رپورٹ میں خواتین کی تجارت میں لازمی کردار اور درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی مدد سے خواتین کی قیادت والی پورٹ فولیو تیار کر کے ان کے کاروبار کو بڑھا یا جاسکتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کی ماہ نور ارشدنے رپورٹ پرتفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مطالعے نے چار اہم علاقوں پر توجہ مرکوز کی، جنوبی ایشیا میں خواتین کس طرح موجودہ تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ اور کثیر الجہتی معاہدوں کی مدد سے تجارتی روابط فروغ پاتے ہیں اور اقتصادی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز سری لنکا کے ریسرچ فیلو اسنکا وجے سانگھے نے برآمدات کی پیداواری صلاحیت میں خواتین کاروباریوں کے کردار کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مخصوص مداخلتوں کا تعین کیا جا سکے۔
سائوتھ ایشین نیٹ ورک آن اکنامک ماڈلنگ بنگلہ دیش کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر سلیم ریحان نے بنگلہ دیش سٹاک ایکسچینج کے ساتھ ورلڈ بینک کے مطالعے کا حوالہ دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں خواتین کی کاروباری صلاحیت ایس ایم ایز اور مقامی طور پر کام کرنے والی مائیکرو انٹرپرائزز سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی اثاثوں کی ملکیت کی کمی ان کے کاروبار کےلئے فنڈنگ تک رسائی کو مشکل بناتی ہے۔ ڈاکٹر ریحان نے پالیسیوں، ٹیکسیشن اور عوامی اور نجی شعبے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پالیسیوں اور ان کے نفاذ کے درمیان فرق کو دور کیا جا سکے۔
ورلڈ بینک میں سینئر پرائیویٹ سیکٹر سپیشلسٹ کرن افضل نے رپورٹ کو خواتین کو تجارت میں شامل کرنے والا روڈ میپ قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اقتصادی اور تجارتی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے خواتین کی تجارتی ویلیو چینز میں شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) میں خواتین کی کم نمائندگی پر بھی روشنی ڈالی جو ان کی کیریئر کی ترقی پر اثر انداز ہوتی ہے۔