اسلام آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں بھارت سمیت دنیا بھر سے 10 ہزار سے زائد سکھ یاتری شرکت کریں گے، وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ خوش آئند ہے، مقبوضہ کشمیر میں حالیہ اقدامات …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں بھارت سمیت دنیا بھر سے 10 ہزار سے زائد سکھ یاتری شرکت کریں گے، وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ خوش آئند ہے، مقبوضہ کشمیر میں حالیہ اقدامات اور نئے نقشے کا اجراء مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، بھارت ہندوتوا نظریہ پر عمل پیرا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ افتتاحی تقریب میں 1947ء کے معاہدہ کے تحت بھارت سے 5 ہزار سکھ یاتری آئیں گے جبکہ مختلف ممالک میں ہمارے مشنز نے کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، سنگاپور، ملائیشیائ، کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے بھی 5 ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ باباگرونانک کے جنم دن پر پاکستان نے کرتارپور آنے والے یاتریوں کیلئے ایک پیکیج بنایا ہے جبکہ بھارتی سیاستداں نوجوت سنگھ سدھو کو بھی تقریب میں شرکت کیلئے ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔ کرتارپور راہداری سے آنے والے یاتری اسی دن واپس جائیں گے۔ 10 روز پہلے رجسٹریشن کی شرط صرف ایک سال کیلئے ہے جبکہ 20 ڈالر سروس فیس بھی صرف دو دن کیلئے ختم کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور بدھسٹ مقدس مقامات کی بحالی کا عمل بھی جاری ہے کیونکہ پاکستان صدیوں سے قدیم تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ترجمان نے کرتارپور راہداری سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو خالصتان موومنٹ کی حوصلہ افزائی سے جوڑنے کے پروپیگنڈوں کو مسترد کیا اور کہا کہ ہماری پالیسی میں کوئی ایسا منفی پہلو نہیں، کرتارپور راہداری خالصتاً وزیراعظم عمران کا انیشیٹیو تھا جس پر بھارت نے بھرپور ہچکچاہٹ کے بعد ساتھ دیا۔ ترجمان نے کشمیر سے متعلق کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ 80 لاکھ کشمیری عوام کے باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکے ہیں۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ افغانستان میں پاکستان سفارتکاروں کو ہراساں کرنے سے متعلق ترجمان نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی مشن کے ارکان کو تحفظ دینے سے متعلق پنی ذمہ داری پوری کرے۔ سعودی عرب یمن معاہدہ سے کشیدگی کم ہو گی۔ ترک صدر جلد پاکستان کے دورہ پر آ رہے ہیں۔ ایران کے معاملہ پر مفاہمتی عمل جاری اور مثبت نتائج کی توقع ہے۔








