24.7 C
Islamabad
ہفتہ, اپریل 5, 2025
ہومقومی خبریںترقی پذیر ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے متحمل نہیں ہو سکتے،...

ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے متحمل نہیں ہو سکتے، وفاقی وزیر سینیٹر شیری رحمان

- Advertisement -

اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے متحمل نہیں ہو سکتے، اب وقت آگیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کے عزم کا اعادہ کیا جائے ۔

مصر کے شہر شرم الشیخ میں کوپ-27 میں پاکستان پویلین میں ’’دی لاسٹ اینڈ دی ڈیمیجڈ‘‘ کے عنوان سے مباحثے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ COP27 میں ایجنڈے میں یقینی بنانا تھا کہ ترقی پزیر ممالک میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وضاحت اور ٹائم لائنز مقرر کی جائیں، ہم عالمی پلیٹ فارم میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ پورا نظام اس پر منحصر ہے اور ہر ملک کو ویٹو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری ساؤتھ سے آگے بڑھ کر فوری اقدامات کا تعین کرے جو کہ موسمیاتی خطرے کے لیے ایک خطرناک نئی فرنٹ لائن کے کنارے پر ہیں۔

- Advertisement -

اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اپنے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔سابق پاکستانی سفیر اور چیئرپرسن ایس ڈی پی آئی شفقت کاکاخیل نے ’’لاس اینڈ ڈیمیج ‘‘کی وضاحت کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالی جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ ہم کس طرح ’’لاس اینڈ ڈیمیج‘‘ کی وضاحت کریں گے۔ ناقابل تلافی نقصانات جیسے جانوں، زمینوں اور ذریعہ معاش کا نقصان معاشیاتِ پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں وعدوں کی تکمیل کے لیے سیاسی عزم کا فقدان ہے۔

وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے بنگلہ دیش کے وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی محمد شہاب الدین کی دعوت پر اور جنوبی ایشیا کوآپریشن انوائرمنٹ پروگرام (SACEP) کے جنوبی ایشیا کے ماحولیاتی وزراء کے اجلاس میں شرکت کی۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان ماحولیاتی مشترکات کو اجاگر کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سیلاب اور خشک سالی سے خطے کو 215 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ آب و ہوا کوئی سرحد نہیں جانتی ۔ اس کے لیے سرحدوں کے پار تعاون کو مسلسل مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم جنوبی ایشیا میں بہت کچھ شیئر کرتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم صرف آب و ہوا کی آفت کا اشتراک کر رہے ہیں۔ ہمیں علم، ڈیٹا پلیٹ فارمز، بہترین طریقوں، تجربات اور مل کر ترقی کرنے کے منصوبوں پر اشتراک کی ضرورت ہے، ہمیں انسانیت کے سب سے اہم چیلنج سے نکلنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔بھارتی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

آخر میں وفاقی وزیر نے یو این ایف سی سی سی کے پویلین میں ‘Turning Financing Commitments into Net-zero Action in Asia Pacific’ کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن میں بھی بات کی جہاں انہوں نے پاکستان کے Living Indus Initiative پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد دریاؤں کو آب و ہوا اور انسانی اثرات سے بچانا ہے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=336601

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں