اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):ترکیہ کے یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کے غزالی ایجوکیشن فائونڈیشن کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو گئے۔ یادداشت پر یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار اور غزالی فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عامر محمود نے دستخط کیے۔
اس موقع پر پاکستان میں ترکیہ کے سفیر مہمت پاچاجی اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ مہمت پاچاجی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی مثالی ہے اور دونوں برادر قوموں کے درمیان زبان کی وجہ سے رابطوں میں دشواری محسوس کی جاتی ہے تاہم باہمی تعاون کے ذریعے اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے ثقافتی، تہذیبی اور نظریاتی رشتے دونوں قوموں کے درمیان گہری محبت اور دوستی کی بنیاد ہیں جن کو زوال نہیں ہے، یہ دوستی اور تعاون وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا اور بامعنی ہوتا جائے گا۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کا فکری اور سیاسی سفر یکساں ہے، دونوں قوموں نے ایک ہی زمانے میں ایک ہی انداز میں نظریاتی جدوجہد کر کے استعماری قوتوں کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ یہی دو قومیں ہیں جو دنیا کے موجودہ سنگین مسائل اور عالمی تنازعات سے محفوظ رکھنے کی فکری طاقت سے مالا مال ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال اور ترکیہ کے قومی شاعر محمت عاکف ایرصوئے ہی ہیں جنہوں نے گزشتہ صدی میں آج کے پیچیدہ مسائل اور نواستعماریت کے خطرے کو بھانپ کر ان سے نمٹنے کے طریقوں کا تعین کر دیا۔
ڈاکٹر خلیل طوقار نے اس موقع کہا کہ پاکستان میں ترک زبان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ترکیہ میں بھی اردو سکھانے کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ استنبول یونیورسٹی میں ایک سو پندرہ برس سے اردو کا شعبہ قائم ہے اور اس میں بڑی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ تقریب سے ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ ڈاکٹر سلیم مظہر اور ممتاز دانشور ڈاکٹر فرید بروہی نے بھی خطاب کیا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=413923