28.2 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومقومی خبریںتعلیمی اداروں میں مبینہ ہراسگی واقعات کی درخواست پر ڈی جی ایف...

تعلیمی اداروں میں مبینہ ہراسگی واقعات کی درخواست پر ڈی جی ایف آئی اے طلب ، کیس کی سماعت ملتوی

- Advertisement -

تعلیمی اداروں میں مبینہ ہراسگی واقعات کی درخواست پر ڈی جی ایف آئی اے طلب ، کیس کی سماعت ملتوی

لاہور۔18اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے تعلیمی اداروں میں مبینہ ہراسگی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خواتین کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی کے وقت کوئی مرد نظر نہ آئے ، ڈی جی ایف آئی اے عدالت آئیں اور ان تمام کیسز کو دیکھیں، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی ،

- Advertisement -

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے شہری اعظم بٹ کی لاہور کے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات سے متعلق اعلی سطحی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے رانا سکندر ایڈوکیٹ جبکہ عدالتی حکم پر آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر متعلقہ حکام پیش ہوئے،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ اس کیس کو دیگر ہراسگی کے کیسز کے ساتھ سنیں گے ،

جب ایک جھوٹی خبر چلتی ہے تو اس کا کتنا نقصان ہے ، نجی کالج میں ہونے والے واقعہ کی کوئی متاثرہ ہے تو عدالت آئے، ہم اس کو سنیں گے ، سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ وڈیوز کو وائرل ہونے سے روکا کیوں نہیں گیا؟کیا آپ نے وڈیوز روکنے کیلئے کسی اتھارٹی سے رابطہ کیا، جس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ ہم نے پی ٹی اے سے رابطہ کیا،چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کیا کہ آج 18 تاریخ ہے، وڈیوز13 اور14 کو وائرل ہوئیں،

آپ نے جاگنا تب ہوتا ہے جب آگ لگ چکی اورسب جل چکا ہوتا ہے،عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ نے متعلقہ اتھارٹیز سے بہت تاخیر سے رابطہ کیا، آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ 700 سے زائد اکائونٹس سے وڈیوز وائرل ہوئیں، پولیس کے پاس سائبر کرائم کو دیکھنے کیلئے صرف ایک ادارہ ہے،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے،آپ نے بچوں کو سڑکوں پر آنے دیا، آپ ہمیں دو دن کا حساب دیں کہ14 اور15 اکتوبر کو آپ نے کیا کیا؟

آج بھی ایکس اور ٹک ٹاک پر وڈیوز پڑی ہیں، دو دن آپ نے کچھ نہیں کیا، آپ انتظار کرتے رہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ آپ نے جو دستاویزات جمع کرائی ہیں،اس کے بعد آپ نے دو دن کچھ نہیں کیا اور 16 اکتوبر سے کام شروع کیا، نیت ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں،آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ڈیٹا کو اپلوڈ ہونے سے روکنا اتنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمارے پاس اتھارٹی ہے، ہم ایک اکائونٹ سے روکیں گے تو دوسرے سے ری پوسٹ ہو جاتی ہے، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ جو بچیاں سڑکوں پر آئیں ،اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو کون ذمہ دار تھا؟

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 12 اکتوبر کو ایک انسٹاگرام پوسٹ سے کہا گیا کہ نجی کالج میں لڑکی کا ریپ ہوا، اسی دن ایس ایس پی متعلقہ کیمپس میں پہنچے اور تحقیقات شروع کیں، فرسٹ ایئر کے بچوں کے اپنے واٹس ایپ گروپ ہیں جن پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں، ہر گروپ میں انسٹاگرام پوسٹ شیئر ہوئی مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ہوا کیا ہے،

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ ان حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سماعت کرے گا، منگل کے روز فل بنچ ان کیسز پر سماعت کرے گا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور قرار دیا کہ جہاں پر بھی خواتین موجود ہیں، وہاں میل سٹاف نظر نہ آئے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=514383

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں