21.6 C
Islamabad
جمعرات, اپریل 3, 2025
ہومقومی خبریںتمام شہری ادارے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں ،نگران وزیراعلیٰ...

تمام شہری ادارے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں ،نگران وزیراعلیٰ سندھ

- Advertisement -

کراچی۔ 24 نومبر (اے پی پی):نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نےتمام شہری اداروں کوہدایت کی ہے کہ عوامی مسائل پرتوجہ دیتے ہوئے پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، بہتے گٹروں کو ٹھیک کرنے، خستہ حال سڑکوں، گلیوں، فٹ پاتھوں اور سٹریٹ لائٹس کی مرمت کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے انہوں نے کہا کہ کراچی میں شہری خدمات فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے اختیاراتی معاملات میں الجھے رہتے ہیں اور شہر کی حالت روز بروز بگڑتی رہتی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔

اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکرٹری خزانہ کاظم جتوئی، سیکریٹری بلدیات منظور شیخ، سیکریٹری ورکس نواز سوہو، کمشنر کراچی سلیم راجپوت، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ڈی جی کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، سی او او واٹر بورڈ، ڈپٹی کمشنرز ، کنٹونمنٹ بورڈز کے نمائندگان، کے الیکٹرک، ایم ڈی سولڈ ویسٹ مینجمنٹ، کیبل آپریٹرز اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی شہری ادارہ کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ۔انہوں نے کہا کہ سڑکیں خستہ حال ہیں، پیدل چلنے والے راستے تجاوزات کی زد میں ہیں، پانی چوری کے واقعات، ٹرانسپورٹ کا انتظام درہم برہم ، لوگوں کو پینے کیلئے پانی میسر نہیں، گٹر ابل رہے ہیں، صفائی ستھرائی کا کام نہیں ہورہا، سٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی اوربے ہنگم تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں و ضلعی انتظامیہ کوچاہئے کہ مذکورہ مسائل کو حل کریں۔ ڈی سی شرقی الطاف شیخ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ انکے ضلع میں چار سب ڈویژن جس میں فیروز آباد، جمشید کوارٹرز، گلشن اقبال اور گلزار ہجری آجاتے ہیں۔ تقریباً تمام ذیلی ڈویژنوں میں اسٹریٹ لائٹس، کھلے گٹر، سڑکوں کی استرکاری، کچرا اٹھانے، غیر ترتیب شدہ پمپنگ اسٹیشنوں اور بند ،ٹوٹی نکاسی کی لائنوں کے مسائل ہیں۔ 13-D پر کے سی آر (اولڈ) پر نامکمل کام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس نے ٹریفک اور عوام کیلئے مسائل و مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ کام مکمل کرنے کیلئے ٹھیکیداروں سے بات کریں۔ کے ایم سی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ سکیم 33 میں نکاسی کا کوئی نظام نہیں ہے جہاں سڑکوں اور واک ویز کی کارپٹنگ جیسی سہولیات بھی میسر نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے میئر اور متعلقہ ٹاؤن کو ہدایت کی کہ سکیم 33 کی حالت کو بہتر بنایا جائے کم از کم کچرا اٹھانے اور باقاعدگی سے صفائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے میئر کو ہدایت کی کہ سکیم-33 کیلئے پینے کے پانی و نکاسی سمیت تمام سہولیات فراہم کرنے کیلئے ایک سکیم پر کام کیا جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ریڈ لائن کی تعمیراتی کام نے ملیر کینٹ سے حسن اسکوائر تک پورے علاقے کو مسائل میں جکڑکر رکھا ہے، پوری سڑک کھودی ہوئی ہے اور ٹریفک جام ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اس سوال پر وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ریڈ لائن منصوبے کا نظرثانی شدہ PC-I ایکنک سے منظوری کیلئے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ایکنک میں منصوبہ تاخیر کا باعث بنا اس لیے یہ منصوبہ علاقوں کے مکینوں کیلئے ایک وبال جان بن گیا ہے۔اس پر وزیراعلیٰ نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کو پلاننگ کمیشن سے بات کرنے کی ہدایت کی اور وہ وزیر اعظم کو ایک ڈی او لیٹر لکھیں گے جس میں درخواست کی جائے گی کہ پی سی کی منظوری دے کر علاقے کے لوگوں کو مسائل سے نجات دلایا جائے۔

ڈی سی غربی احمد صدیقی نے وزیراعلیٰ کو پریزنٹینشن دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع غربی میں تین سب ڈویژن منگھوپیر، مومن آباد اور اورنگی آجاتے ہیں جہاں سڑکوں، گلیوں، فٹ پاتھوں، اسٹریٹ لائٹس، گٹر نالےاور نکاسی کی لائنوں کوزیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی ایم سی مومن آباد میں 9 یونین کمیٹیاں ہیں اور ان سب کو سیوریج سسٹم، نالہ صاف کرنے اور اسٹریٹ لائٹس، گٹروں پر ڈھکن لگانے ، لنک سڑکوں کی مرمت اور پکے فرش سے بلاکس کی مرمت و تعمیر کی ضرورت ہے۔ ٹی ایم سی اورنگی میں آٹھ یونین کونسلز ہیں اور ٹی ایم سی منگھوپیر کے پاس سولہ یونین کونسلز ہیں جنہیں اسی طرح کی سہولیات کی ضرورت ہے۔

ٹی ایم سی مومن آباد کے تمام 9 پمپنگ اسٹیشن کام کر رہے ہیں لیکن ٹی ایم سی اورنگی کے چار میں سے دو پمپنگ اسٹیشن کام کر رہے ہیں۔ ٹی ایم سی منگھوپیر اسٹیشن زیر تعمیر ہے۔ ضلع میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا، وزیراعلیٰ نے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو ہدایت کی کہ وہ صحیح طریقے سے کام کریں اور انہیں اپنی پیش رفت سے متعلق آگاہ کرتے رہیں۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ٹاؤنز کو پراپرٹی ٹیکس، لائسنس فیس اور دیگر ذرائع سے وصولی کا اختیار ہے۔اس پر وزیراعلیٰ نے ٹاؤنز کو اپنی مالی حالت بہتر بنانے اور ڈیلیور کرنے کی ہدایت کی۔

واٹر بورڈ کے سی او او نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ لیاری پمپنگ اسٹیشن کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے اس لیے گندے پانی کو ٹھکانے لگانا ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب کے ڈبیلو ایس بی نے کے الیٹرک سے لیاری کے پمپنگ اسٹیشنوں کو لوڈ شیڈنگ فری قرار دینے کی درخواست کی تو کے ای نے انہیں بلاتعطل بجلی کی لائن فراہم کرنے کیلئے 90 ملین روپے کا بل بھیجا تھا۔ اس پر وزیراعلیٰ نے کے الیکٹرک کو مسئلہ حل کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ڈی سی کیماڑی نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ان کے اضلاع کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ایک سوال پر واٹر بورڈ کے سی او او اسد اللہ خان نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ منگھوپیر روڈ وفاقی حکومت تعمیر کر رہی ہے لیکن فنڈز کے مسائل کی وجہ سے کام ادھورا رہ گیا ہے اورکام بند ہونے کی وجہ سے پانی کی لائنیں نہیں بچھائی گئیں۔

اس پر میئر کراچی نے کہا کہ اس منصوبے پر 2 ارب روپے لاگت آئے گی اور اگر یہ رقم کے ایم سی کو دے دی جائے تو وہ نہ صرف پانی کی لائنیں بچھائیں گے بلکہ 2 کلومیٹر نامکمل سڑک بھی تعمیر کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری بلدیات اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں اور انہیں رپورٹ دیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈی سی کیماڑی کی نشاندہی پر ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ پانی کی فراہمی کا نظام تیار ہونے تک عوام کیلئے پانی کے ٹینک بنائے جائیں۔

وزیر اعلیٰ نے ٹاؤن میونسپل کمشنر بلدیہ ٹاؤن امداد شاہ کی اجلاس سے دانستہ غیر حاضری پر انکی خدمات معطل کر دیں اور اپنے علاقے کے حالات بہتر نہ کرنے پر ٹی ایم سی ماڑی پور جاوید قمر کے تبادلے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے تمام ٹی ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ اپنے شہر کے علاقوں کا دورہ کرکے عوامی مسائل کو حل کریں۔ انہوں نے سیکرٹری بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ ہر ٹاؤن کا معائنہ کریں۔ جسٹس باقر نے کنٹونمنٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ کے ایم سی اور ٹاؤنز کے ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے علاقوں کو صاف ستھرا رکھیں،وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ اجلاس آئندہ ہفتے دوبارہ منعقد کیا جائے تاکہ کراچی کے باقی اضلاع کے مسائل کا جائزہ لیا جاسکے۔

 

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=413939

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں