تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹالنے پر وزیراعظم اور آرمی چیف خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، معیشت سنبھالنا مسلم لیگ (ن) کا تاریخی کارنامہ ہے ۔ حفیظ الرحمن دریشک
تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹالنے پر وزیراعظم اور آرمی چیف خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، معیشت سنبھالنا مسلم لیگ (ن) کا تاریخی کارنامہ ہے ۔ حفیظ الرحمن دریشک

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حفیظ الرحمن خان دریشک نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی شبانہ روز محنت اور دانشمندانہ پالیسیوں کی بدولت ڈوبتی ہوئی ملکی معیشت کو سہارا ملا ہے۔ انہوں نے بجٹ خسارے کو تاریخ کی کم ترین سطح پر لانے پر مسلم لیگ (ن) کی معاشی ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجث پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے عالمی محاذ پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی دن رات کی کوششوں اور حکمتِ عملی نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے بڑے خطرے سے بچا لیا ہے، جس کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔
اپنے حلقے راجن پور کا ذکر کرتے ہوئے حفیظ الرحمن دریشک نے کہا کہ یہ پنجاب کا پسماندہ ترین ضلع ہے جہاں ہر سال پہاڑی نالوں کا سیلابی پانی فصلیں اور مکانات تباہ کر دیتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پانی کو ڈیمز بنا کر محفوظ کیا جائے تاکہ راجن پور اور بلوچستان کی زمینیں سیراب ہو سکیں۔ انہوں نے گیس کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوئی گیس ہمارے پڑوس سے نکل کر پورے ملک میں پہنچ چکی ہے لیکن راجن پور کے عوام آج بھی محروم ہیں، لہذا ضلع کو فوری گیس فراہم کی جائے۔
انہوں نے تعلیمی اور طبی منصوبوں کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے دور میں منظور شدہ ہسپتال اور یونیورسٹی کے منصوبے، جن کے لیے زمینیں بھی مختص ہو چکی تھیں، سابقہ حکومت نے ٹھپ کر دئیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں پر فوری دوبارہ کام شروع کروایا جائے تاکہ علاقے سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔
رکن قومی اسمبلی نے زراعت اور کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کھاد اور بیج مہنگے ہونے کے باوجود کاشتکار کو اس کی فصل کا پورا ریٹ نہیں مل رہا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کسانوں کا معاشی استحصال بند کیا جائے اور انہیں ریلیف فراہم کرتے ہوئے اجناس کی قیمتیں ان کے حق کے مطابق مقرر کی جائیں۔








