تیسرے ’’نسل نو ادبی میلے‘‘ کا شاندار آغاز، افتخار عارف، عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کو کمال فن ایوارڈز پیش کئے گئے

تیسرے ’’نسل نو ادبی میلے‘‘ کا شاندار آغاز، افتخار عارف، عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کو کمال فن ایوارڈز پیش کئے گئے

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):تیسرے ’’نسل نو ادبی میلے ‘‘ کا شاندار آغاز ہو گیا، افتخار عارف، عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی کو کمال فن ایوارڈز پیش کئے گئے۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ حکومت اہل قلم کی فلاح و بہبود اور ادب کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے جبکہ ادیب اور دانشور معاشرے کی فکری رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔وہ اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ تیسرے ’’نسل نو ادبی میلے‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ملک بھر سے منتخب نوجوانوں، ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے نوجوانوں، بالخصوص نوجوان خواتین کو قوم کا روشن مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ادب اور اہل قلم کی سرپرستی کے لیے اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تین سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف آئندہ تین سال بھی اکادمی سے وابستہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری جہاں بھی ہوگی، وہ اہل ادب اور نوجوانوں کے لیے ہر وقت حاضر رہیں گے۔ وفاقی وزیر نے ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ اپنی زمانہ طالب علمی کی یادیں بھی شیئر کیں۔اس موقع پر چیئرپرسن قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت نوشین افتخار مہمان اعزاز تھیں جبکہ معروف شاعر و ادیب افتخار عارف اور معروف کالم نگار و ادیب عطاء الحق قاسمی نے کلیدی گفتگو کی۔

صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ’’نسل نو ادبی میلہ‘‘ محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ نوجوانوں کو تخلیقی اظہار، فکری مکالمے اور ادبی سرگرمیوں سے جوڑنے کا موثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلہ ملک کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے درمیان مکالمے، ہم آہنگی اور فکری اشتراک کو فروغ دے رہا ہے۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے تین سالہ دور صدارت اور اکادمی کی پچاس سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی جن میں پاکستان کی دور دراز زبانوں کے لیے عجائب گھر کا قیام، سالانہ قومی ایوارڈز میں دو نئے ایوارڈز کا اضافہ، اکادمی کی مرکزی عمارت میں لفٹ کی تنصیب، دس روزہ اقامتی منصوبہ اور ہفتہ وار ادبی نشست ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ اکادمی کو مزید فعال اور موثر ادبی ادارہ بنایا جائے۔

معروف شاعر و ادیب افتخار عارف نے کلیدی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا ’’نسل نو ادبی میلہ‘‘ محض ایک رسمی ادبی سرگرمی نہیں بلکہ تخلیق، فکر اور مکالمے کا بامعنی اور موثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی سربراہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی دنیا بھر کے ادبی اداروں کے مقابلے میں بہتر کام کر رہی ہے۔افتتاحی تقریب میں کمال فن ایوارڈز بھی پیش کیے گئے۔ 2023ء کا کمال فن ایوارڈ معروف شاعر و ادیب افتخار عارف کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ 2024ء کا کمال فن ایوارڈ معروف کالم نگار، صحافی، ڈرامہ نگار اور ادیب عطاء الحق قاسمی کو دیا گیا جبکہ 2025ء کے کمال فن ایوارڈ کے لیے منتخب معروف براہوی ادیب و شاعر ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کا ایوارڈ ان کی عدم موجودگی میں پناہ بلوچ نے وصول کیا۔

تقریب کا آغاز پرچم کشائی اور قومی ترانے سے ہوا۔ یوم آزادی کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا اور قائداعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پورٹریٹس کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ بعد ازاں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولؐ پیش کی گئی۔تقریب کی نظامت سلطان ناصر نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی سربراہی کے تین سالہ دور کی کارکردگی پر مبنی رپورٹ بھی کتابی صورت میں مہمانوں کو پیش کی۔تین روزہ ’’نسل نو ادبی میلے‘‘ کے اختتام پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو اسناد سے نوازا جائے گا۔