آسان خدمت مراکز کا مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے مزید آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے، شزا فاطمہ خواجہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان آسان خدمت مرکز کا بنیادی مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنانا ہے، جہاں ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری اداروں کی 60 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان آسان خدمت مرکز کا بنیادی مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنانا ہے، جہاں ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری اداروں کی 60 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔بدھ کو آسان خدمت مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 12 سے زائد سرکاری محکموں کی خدمات ایک ہی مرکز پر دستیاب ہونے سے شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں رہی۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ آسان خدمت مرکز محض ایک عمارت نہیں بلکہ شہریوں کو بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کی عملی تصویر ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کا مقصد شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت پیدا کرنا ہے۔ یہ مرکز حکومتِ پاکستان اور آذربائیجان کے تعاون سے صرف 90 دن میں قائم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے علاوہ اسلام آباد پولیس، سی ڈی اے، میونسپل کارپوریشن، نادرا اور وزارتِ خارجہ سمیت مختلف اداروں کی خدمات دستیاب ہیں،تصدیق اور روزمرہ دستاویزی ضروریات بھی ایک ہی چھت تلے پوری کی جا سکتی ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مرکز میں شادی اور نکاح کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ حال ہی میں یہاں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی جس سے متعلق شناختی کارڈز، کاغذی کارروائی اور رجسٹریشن سمیت تمام دستاویزی امور صرف نصف گھنٹے میں مکمل کیے گئے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ دنیا کے تقریباً 78 فیصد ممالک میں ڈیجیٹل شناخت کا نظام موجود ہے اور پاکستان نے بھی ڈیجیٹل شناخت کے نظام کا آغاز کر دیا ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران نیشنل آئی ڈی بورڈ کو ڈیجیٹل تبدیلی کے تقریباً 30 منصوبے سونپے گئے، جن میں سے 29 مکمل ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت کے تعاون سے ادویات کی سیریلائزیشن کا ایک منصوبہ زیر تکمیل ہے، جس کے ذریعے شہری صرف ایک کلک سے کسی دوا کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کر سکیں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے 39 وفاقی سرکاری محکموں کو پیپر لیس بنایا جا چکا ہے، جبکہ وزیراعظم آفس کے نظام میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کی جانب پیش رفت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل آئی ڈی بورڈ کے ذریعے ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ نظام کو بھی مزید بہتر بنایا گیا ہے اور اب تک 42 لاکھ مریضوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ اس نظام کے ذریعے انہی او پی ڈی، ڈاکٹروں اور طبی سہولیات سے روزانہ 50 سے 70 فیصد زیادہ مریضوں کو خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ نیشنل آئی ڈی بورڈ نے اوورسیز سٹیزن انگیجمنٹ پلیٹ فارم بھی فعال کیا ہے، جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں اپنے تجربات سے متعلق رائے، شکایات اور تعریفی تاثرات درج کرا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ خزانہ کے ساتھ ڈیٹا انٹرآپریبلٹی پر بھی کام جاری ہے، جس کا مقصد مالیاتی اعداد و شمار کو باہم مربوط کرکے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر منصوبہ بندی اور ڈیش بورڈز تیار کرنا ہے۔

ای اسٹامپ کے اجرا ءکے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صوبائی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پنجاب میں ای اسٹامپ نظام متعارف کرایا تھا اور وزیراعظم بننے کے بعد اس منصوبے کو مزید آگے بڑھانے کی ذمہ داری متعلقہ اداروں کو سونپی۔انہوں نے کہا کہ روایتی اسٹامپ پیپرز کے حصول میں اجارہ داری، اضافی اخراجات، طویل قطاروں اور جعل سازی جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا، تاہم ای اسٹامپ نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونے کے بعد شہریوں کو تصدیق شدہ ڈیجیٹل دستاویز فراہم کی جائے گی۔ شہریوں کو ای اسٹامپ کے لیے بینکوں کے چکر لگانے یا فزیکل تصدیق اور دستاویزات کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومتی نظام میں بنیادی توجہ طریقہ کار کے بجائے شہریوں کی سہولت اور تجربے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے شہری مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر پالیسی اور نظام میں شہری کو مرکزیت حاصل ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اب ڈیجیٹل خودمختاری کے حوالے سے بھی بات کر رہا ہے۔ جس طرح ملک کی جغرافیائی حدود ہوتی ہیں اسی طرح اس کی ڈیجیٹل حدود اور خودمختاری بھی اہم ہیں۔ گزشتہ سال کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ روایتی جنگ کے ساتھ ڈیجیٹل جنگ بھی اہم رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ڈیجیٹل خودمختاری ایک وجودی معاملہ ہے اور اس حوالے سے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق پاکستان دنیا کے اعلیٰ سطح کے سائبر سکیورٹی ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی، ڈیجیٹل شناخت، ڈیٹا ایکسچینج، ٹیکسیشن، رابطہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ پاکستان کی برآمدات میں سالانہ تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل رابطہ کاری، ڈیجیٹل نظام، صنعتی سہولت کاری اور دیگر شعبوں میں بھی کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان اپنی 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر ڈیجیٹل محاذ پر درست سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید خبریں